رحیم یار خان کے نواحی علاقے بیٹ دیوان میں پاگل کتوں کے حملے کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد زخمی ہو گئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ متاثرہ افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور انہیں اینٹی ریبیز ویکسین لگائی گئی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایک کتا اچانک گلی میں داخل ہوا اور راہ چلتے افراد پر حملہ آور ہو گیا۔ شور مچنے پر مقامی افراد جمع ہو گئے اور ایک کتے کو مار دیا گیا، تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ علاقے میں مزید آوارہ اور ممکنہ طور پر پاگل کتے موجود ہو سکتے ہیں۔
انتظامیہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان کے مطابق آوارہ کتوں کو پکڑنے کے لیے میونسپل کارپوریشن اور متعلقہ محکموں کی ٹیمیں علاقے میں روانہ کر دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی جا رہی ہے۔
پاکستان میں آوارہ کتوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ، کتوں کے کاٹنے کے سالانہ لاکھوں کیسز رپورٹ
علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آوارہ کتوں کے خلاف مستقل اور مؤثر مہم چلائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گلی محلوں میں آوارہ کتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس سے بچوں اور بزرگوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔
واضح رہے کہ پنجاب کے مختلف شہروں میں آوارہ کتوں کے حملوں کے واقعات وقتاً فوقتاً رپورٹ ہوتے رہتے ہیں، جس کے بعد انتظامیہ عارضی اقدامات تو کرتی ہے مگر مستقل حل نہ ہونے کے باعث مسئلہ دوبارہ سر اٹھا لیتا ہے۔ طبی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ کتے کے کاٹنے کی صورت میں فوری طور پر زخم کو صابن سے اچھی طرح دھو کر قریبی اسپتال سے رجوع کیا جائے تاکہ ریبیز جیسے مہلک مرض سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔
