روزے کی حالت میں مسواک اور ٹوتھ پیسٹ کا استعمال: شرعی رہنمائی کیا ہے؟

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

رمضان المبارک میں روزے کے دوران منہ کی صفائی کے حوالے سے اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آیا مسواک، ٹوتھ پیسٹ یا ٹوتھ پاؤڈر استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اس سلسلے میں فقہائے کرام نے واضح رہنمائی فراہم کی ہے جس کی روشنی میں روزہ دار بآسانی درست فیصلہ کر سکتا ہے۔

latest urdu news

احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ روزے کی حالت میں بھی مسواک فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عامر بن ربیعہؓ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کئی مرتبہ رسول اللہ ﷺ کو روزے کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا (سنن ترمذی: 725)۔ اسی بنیاد پر فقہائے احناف نے روزے کی حالت میں مسواک کو جائز قرار دیا ہے، خواہ وہ خشک ہو یا تر۔ یہاں تک کہ اگر مسواک پانی سے تر کی گئی ہو تب بھی اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں، چاہے زوال سے پہلے کیا جائے یا بعد میں۔

البتہ فقہاء نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ اگر مسواک کی لکڑی کا کوئی ریشہ یا ذرہ ٹوٹ کر حلق میں چلا جائے اور نگل لیا جائے تو روزہ فاسد ہو جائے گا۔ اس لیے مسواک کرتے وقت احتیاط ضروری ہے کہ کوئی چیز حلق میں داخل نہ ہو۔ اسی طرح اگر مسواک چبانے سے اس کا ذائقہ نمایاں طور پر محسوس ہو یا لکڑی کے ریزے نکلنے کا اندیشہ ہو تو اس سے اجتناب بہتر ہے۔

رمضان میں سرکاری نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، اسسٹنٹ کمشنر سرائے عالمگیر

جہاں تک ٹوتھ پیسٹ، منجن یا ٹوتھ پاؤڈر کا تعلق ہے تو یہ مسواک سے مختلف ہیں۔ ان میں واضح ذائقہ اور جھاگ ہوتا ہے اور ان کے ذرات کے حلق میں جانے کا قوی امکان رہتا ہے۔ اگرچہ بعض علماء احتیاط کے ساتھ کلی کرنے کی اجازت دیتے ہیں، تاہم عمومی طور پر روزے کی حالت میں ان کے استعمال سے پرہیز کا مشورہ دیا جاتا ہے، کیونکہ غیر ارادی طور پر بھی اگر کوئی ذرہ حلق میں چلا جائے تو روزہ ٹوٹ سکتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ روزے کی حالت میں مسواک کرنا سنت اور جائز ہے، مگر مکمل احتیاط کے ساتھ۔ جبکہ ٹوتھ پیسٹ اور منجن کے استعمال سے حتی الامکان گریز کرنا چاہیے تاکہ روزے کے فاسد ہونے کا کوئی اندیشہ باقی نہ رہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter