اسٹریٹ موومنٹ کی باتیں ہوئیں تو عمران خان کی رمضان ملاقاتیں بھی متاثر ہوسکتی ہیں: رانا ثنا اللہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسٹریٹ موومنٹ یا اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ جاری رہا تو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رمضان المبارک کے دوران ہونے والی ملاقاتیں بھی بند کی جا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد یا گالم گلوچ کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

latest urdu news

نجی ٹی وی کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کو جیل میں بہتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی رہائش کی صورتحال "اے ون” ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیراعظم کا علاج بھی معیاری انداز میں کروایا گیا ہے اور انہیں کسی قسم کی بنیادی سہولت کی کمی کا سامنا نہیں۔

رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 8 فروری کو پہیہ جام ہڑتال کی کال دی گئی مگر اس کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی نظر نہیں آئی۔ ان کے بقول، ماضی کے دھرنوں کے مقابلے میں حالیہ احتجاج کمزور اور غیر مؤثر تھے۔ انہوں نے سہیل آفریدی کے اسٹریٹ موومنٹ کے بیان کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی باتیں پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ حکومت نے تحریک انصاف کو ڈی چوک کے بجائے سنگجانی منتقل ہونے کی تجویز دی تھی تاکہ مذاکرات کا راستہ نکالا جا سکے۔ ان کے مطابق محسن نقوی بھی براہ راست رابطے میں تھے، اور ابتدائی رضامندی کے بعد پی ٹی آئی قیادت نے اپنا مؤقف بدل لیا۔ رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ عمران خان خود رہائی کے لیے سنجیدہ نہیں اور بعض حلقوں کی جانب سے انہیں یہ باور کرایا جا رہا تھا کہ ملک میں فوری انقلاب آنے والا ہے۔

وزیراعلیٰ کے پی کا عمران خان کی رہائی کے لیے فورس بنانے کا اعلان

دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما عمیر نیازی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کسی ذاتی رعایت کے خواہاں نہیں اور ان کے خلاف مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ نظام چاہتا ہے کہ عمران خان جھک جائیں، مگر وہ ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی اور سیاستدان نے اتنا طویل عرصہ مسلسل جیل میں نہیں گزارا جتنا عمران خان گزار چکے ہیں۔

عمیر نیازی نے واضح کیا کہ علیمہ خان کا پارٹی سیاست میں کوئی کردار نہیں اور وہ صرف اپنے بھائی کی رہائی کے لیے سرگرم ہیں۔ اسٹریٹ موومنٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پارٹی سطح پر اس بارے میں کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں ہوا، جبکہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات یا احتجاج کے اختیار کے لیے راجا ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو نامزد کیا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter