رمضان المبارک کی پہلی تراویح کے موقع پر مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں ایمان افروز اور روح پرور مناظر دیکھنے میں آئے۔ دنیا کے مختلف خطوں سے آئے ہزاروں مسلمان بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز ہوئے، قرآن کی تلاوت سنی اور رمضان نصیب ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے مغفرت اور رحمت کی دعائیں مانگیں۔
پہلی تراویح کا روحانی ماحول
حرمین شریفین میں تراویح کی ادائیگی کے دوران عبادت گزاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ نمازیوں نے انتہائی عقیدت اور نظم و ضبط کے ساتھ نماز ادا کی، جبکہ تلاوتِ قرآن کی پرسوز آوازوں نے ماحول کو مزید روحانی بنا دیا۔ رمضان المبارک کی پہلی رات عام طور پر مسلمانوں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اسی سے عبادات، روزوں اور شب بیداریوں کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے۔
مختلف ممالک میں رمضان کا آغاز
اطلاعات کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، عراق، یمن، لبنان، فلسطین اور افغانستان میں رمضان کا چاند نظر آنے کے بعد پہلا روزہ آج رکھا گیا۔
دوسری جانب ترکیے، سوئیڈن، آسٹریلیا، مصر، عمان، ملائیشیا، سنگاپور، برونائی، انڈونیشیا، فلپائن، آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان، ازبکستان، فرانس اور جاپان میں پہلا روزہ جمعرات کو رکھا جائے گا۔
مغربی ممالک میں مختلف اعلانات
ادھر امریکا، کینیڈا، بیلجیئم اور برطانیہ میں مسلم کمیونٹی کے اندر چاند نظر آنے کے حوالے سے اختلاف پایا گیا۔ بعض حلقوں نے آج سے روزوں کا آغاز کیا جبکہ دیگر نے جمعرات سے رمضان شروع کرنے کا اعلان کیا۔
رمضان اور تراویح کی اہمیت
رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے عبادت، صبر، خیرات اور روحانی تربیت کا مہینہ ہے۔ تراویح کی نماز اس ماہ کی نمایاں عبادتوں میں شامل ہے، جس میں قرآنِ کریم کی طویل تلاوت کی جاتی ہے اور بندہ اپنے رب کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ حرمین شریفین میں ادا ہونے والی تراویح کو دنیا بھر کے مسلمان خصوصی عقیدت سے دیکھتے اور سنتے ہیں، جس سے عالمی اسلامی یکجہتی اور روحانی وابستگی کا احساس مزید مضبوط ہوتا ہے۔
یوں رمضان کی پہلی تراویح نے ایک بار پھر دنیا بھر کے مسلمانوں کو عبادت اور یکجہتی کے رشتے میں جوڑ دیا، جہاں ہر زبان اور ہر خطے کے افراد ایک ہی مقصد—رضائے الٰہی کے حصول—کے لیے جمع نظر آئے۔
