کراچی میں جماعت اسلامی کے امیر منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ ریڈ زون میں احتجاج روکنے والے اقدامات نے عملاً شہر کو ’ڈیتھ زون‘ میں بدل دیا ہے۔
ادارہ نورحق میں ایم پی اے محمد فرحان فاروق اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا وڈیرہ مائنڈ سیٹ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور حق کے لیے احتجاج کرنے والوں پر بدترین ریاستی جبر اور فسطائیت کا مظاہرہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پورے شہر کا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے اور لوگ اپنے حقوق کے لیے نکلیں تو انہیں ریڈ زون میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ منعم ظفر خان نے اعلان کیا کہ تحریک مزاحمت آگے بڑھے گی اور رمضان کے دوران کراچی میں 13 بڑے جلسے کیے جائیں گے، تاکہ ’جینے دو کراچی‘ مہم کے ذریعے شہر کو اس کے حقوق دلائے جائیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کا راگ الاپتی ہے، مگر دو روز قبل ان کی پرامن احتجاجی ریلی پر پولیس نے بدترین تشدد کیا، آنسوگیس اور لاٹھی چارج کے باوجود کارکنان ڈٹے رہے، اور ان پر دہشت گردی کے مقدمات درج کیے گئے۔
کراچی: وزیر داخلہ سندھ کی پولیس کو رمضان کے لیے فول پروف سکیورٹی پلان تیار کرنے کی ہدایت
منعم ظفر خان نے بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ، بڑھتی ہوئی اسٹریٹ کرائم اور صنعتکاروں کو بھتے کی پرچیاں بھیجنے جیسے مسائل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کراچی کے ساتھ دشمنی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ کراچی کو میگا سٹی گورنمنٹ دی جائے اور اختیارات شہر کی نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں، کیونکہ 18 ویں ترمیم کے بعد سندھ حکومت تمام وسائل اور اختیارات پر قابض ہے۔ منعم ظفر نے واضح کیا کہ تحریک مزاحمت کراچی کو حقوق دلوانے کے لیے جاری رہے گی اور ماہ رمضان میں بڑے جلسے کیے جائیں گے۔
