امریکی بحری طاقت کا خلیج میں مظاہرہ، طیارہ بردار بحری بیڑہ ایرانی ساحل کے قریب پہنچ گیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

خلیج کے حساس خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ امریکی طیارہ بردار بحری بیڑہ ایرانی ساحل کے مزید قریب پہنچ گیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی بحری بیڑہ اب ایران سے محض تقریباً 240 کلو میٹر کی دوری پر موجود ہے، جب کہ اس سے قبل یہ فاصلہ تقریباً 700 کلو میٹر بتایا جا رہا تھا۔

latest urdu news

برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی افواج اس وقت یومیہ تقریباً 800 فضائی حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ صلاحیت کسی بھی ممکنہ ایرانی ردعمل کو فوری طور پر غیر مؤثر بنانے کے لیے کافی سمجھی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خلیج میں امریکی جنگی سازوسامان، جدید لڑاکا طیاروں اور بحری جہازوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور امریکی مفادات کے تحفظ کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز کی ایرانی ساحل کے قریب موجودگی نہ صرف علامتی اہمیت رکھتی ہے بلکہ عملی طور پر فوری کارروائی کی صلاحیت بھی فراہم کرتی ہے۔

ایران سے کشیدگی کے دوران ٹرمپ کا مشرقِ وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار جہاز بھیجنے پر غور

دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی بحری بیڑے کی اس پیش قدمی سے خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ایران پہلے ہی امریکی پابندیوں اور عسکری دباؤ پر سخت ردعمل کا اظہار کرتا رہا ہے، ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی غلط فہمی یا اشتعال انگیزی کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی بحری اور فضائی طاقت میں حالیہ اضافہ ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری کا حصہ ہے۔ تاہم سفارتی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل ہی خطے کے امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter