لیہ کی تحصیل چوبارہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں چار سالہ بچہ گھر کے باہر بنے سیوریج کے گڑھے میں گر کر جاں بحق ہوگیا۔ حادثہ علاقے اڈا رفیق آباد میں اس وقت پیش آیا جب بچہ گھر کے قریب کھیل رہا تھا۔
پولیس کے مطابق کمسن بچہ کھیلتے ہوئے اچانک کھلے سیوریج ہول میں جا گرا۔ اہلِ خانہ نے فوری طور پر اسے باہر نکالنے کی کوشش کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ واقعے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور اہلِ محلہ کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر جمع ہوگئی۔
متوفی بچے کے والد نے بتایا کہ گھر کے باہر سیوریج کے لیے گڑھا کھودا گیا تھا جو مناسب حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث کھلا رہ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک افسوسناک حادثہ ہے اور وہ اس معاملے میں کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔ واقعے کے فوراً بعد گڑھے کو مٹی سے بھر کر بند کر دیا گیا تاکہ مزید کوئی حادثہ پیش نہ آئے۔
علاقہ مکینوں نے اس سانحے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کھلے سیوریج گڑھوں اور نکاسی آب کے غیر محفوظ انتظامات کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقوں میں اس طرح کے کھلے گڑھے معصوم بچوں اور راہگیروں کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
لاہور: سیوریج لائن میں گرنے والی ماں بیٹی کی موت، پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر
مقامی افراد کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے نگرانی اور حفاظتی اقدامات کا فقدان ایسے حادثات کا سبب بنتا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ سیوریج منصوبوں کی تکمیل تک عارضی ڈھکن یا حفاظتی باڑ لازمی قرار دی جائے تاکہ آئندہ کسی خاندان کو اس طرح کے سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر شہری علاقوں میں بنیادی سہولیات اور حفاظتی انتظامات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے، جہاں معمولی غفلت بھی قیمتی جان کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔
