اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر جاری دھرنے کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی کے بعدپی ٹی آئی کے متعدد اراکین اسمبلی کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق اہلکاروں سے ہاتھا پائی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور دیگر سنگین الزامات کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی۔
اسلام آباد پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز کے باہر پیش آنے والے واقعے میں دو اراکین قومی اسمبلی اور چار صوبائی اراکین اسمبلی کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں ایم این اے شفقت اعوان اور ایم این اے عمر اسلم شامل ہیں، جبکہ ایم پی اے رفعت شاہ، سرفراز ڈوگر، ملک اسد اور طیب راشد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان کے خلاف دہشت گردی، اقدام قتل اور دیگر مجموعی طور پر 11 دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مظاہرین نے ہنگامہ آرائی کی، پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی، اسلحہ چھیننے کی کوشش کی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ مزید یہ کہ سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا گیا۔
اس سے قبل تھانہ سنگ جانی کے ایس ایچ او کی مدعیت میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنے پر سات اراکین اسمبلی اور 55 دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے کارروائی کی گئی ہے۔
عمران خان کی صحت کے مسئلے کے حل تک دھرنا جاری رکھا جائے گا:علی امین گنڈا پور
علاوہ ازیں دھرنے کے دوران گرفتار کیے گئے چار افراد کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے ان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ پولیس حکام کے مطابق تفتیش کے دوران مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کے بعد تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے ان گرفتاریوں کو سیاسی انتقام قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ حکومتی مؤقف ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
