بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی ہمشیرہ علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت کے دوران راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ان کے غیر حاضر رہنے پر ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ جج امجد علی شاہ نے سنایا۔
عدالت نے علیمہ خان کی جانب سے دائر کردہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کا ٹرائل پہلے ہی تاخیر کا شکار ہے اور ملزمہ کی غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ علیمہ خان کی غیر ذمے داری کے باعث گواہان کو 37 مرتبہ پیش ہونا پڑا، جس سے مقدمے کی کاروائی مزید متاثر ہوئی ہے۔
عدالت نے مزید ہدایت دی کہ وارنٹِ گرفتاری پر فوری عمل درآمد کیا جائے اور اس سلسلے میں ایس پی راولپنڈی کو خصوصی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ مقدمے کی اگلی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ہے تاکہ وارنٹ پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
26 نومبر احتجاج کیس: علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری
علیمہ خان کے وارنٹ جاری ہونے کے بعد سیاسی حلقوں میں اس پر مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے، اور یہ معاملہ عوامی سطح پر بھی زیرِ بحث ہے کیونکہ اس سے پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات اور قانونی کاروائیوں پر توجہ مرکوز ہوئی ہے۔
اس پیش رفت کے ساتھ ہی یہ واضح ہو گیا ہے کہ عدالت قانونی کارروائی میں تاخیر یا غیر حاضری کو نظر انداز نہیں کرے گی اور تمام فریقین کے لیے ضابطہ کار کی پاسداری لازمی ہے۔
