بنوں میں موٹر سائیکل بم دھماکہ، 2 افراد جاں بحق

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

خیبر پختونخوا کے بنوں شہر میں واقع نورڑ تھانہ میریان کے مرکزی دروازے کے نزدیک ایک شدید دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں کم از کم 2 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ بارہ سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ پولیس حکام نے ابتدائی طور پر تصدیق کی ہے کہ دھماکا موٹر سائیکل میں نصب بارودی مواد کے پھٹنے سے ہوا، جس نے قریبی علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔

latest urdu news

واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح کے ابتدائی اوقات میں پیش آیا، جب سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نورڑ تھانہ میریان کے گیٹ کے قریب موجود تھی۔ قریبی دکانوں اور گھروں کے شیشے بھی دھماکے کی شدت سے ٹوٹ گئے، جب کہ زخمیوں میں بچے اور بالغ شہری دونوں شامل ہیں جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد بم معلوم ہوتا ہے جو کسی موٹر سائیکل میں نصب تھا، اور ابتدائی تفتیشی معلومات کے مطابق یہ حملہ آہستہ طریقے سے منصوبہ‌بندی شدہ تھا۔ دھماکے کی جگہ سے موٹر سائیکل کو تحویل میں لے کر بارودی سرنگ یا ریموٹ کنٹرول آلے کی موجودگی کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ فورensک ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود شواہد اکٹھا کر رہی ہیں تاکہ سگنلز، شگاف اور دیگر ثبوتوں کے ذریعے دھماکے کے آغاز اور ذمہ داروں کا پتہ لگایا جا سکے۔

زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جن میں خواتین اور بچوں کے نام بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال بنوں اور نجی کلینکس میں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ پولیس، ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی ٹیمیں واقعہ کے بعد فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور امدادی کارروائیاں انجام دیں۔

اسلام آباد خودکش دھماکہ: حملہ آور کے دو بھائی، بہنوئی اور ایک خاتون گرفتار

پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ذہنی سکون برقرار رکھیں اور فی الحال سیکیورٹی اداروں کے تعاون سے تحقیقات کو آگے بڑھایا جائے۔ متعلقہ حکام نے علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی ہے اور مشتبہ افراد کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا کے قبائلی‑سرحدی علاقوں میں بارودی مواد کے حملے اور عسکریت پسندانہ کارروائیاں کسی نہ کسی حد تک معمول بن چکی ہیں، جہاں اکثر مقامی سیکیورٹی فورسز یا شہری تناظر میں اہداف بن جاتے ہیں۔ گزشتہ سالوں میں اسی نوعیت کے متعدد دھماکے صوبے کے مختلف اضلاع بشمول بنوں اور جنوبی وزیرستان میں رپورٹ ہوئے، جن میں سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش میں جلد پیش رفت متوقع ہے اور ذمہ داروں کی گرفتاری کے لیے کلی طور پر تمام ممکنہ پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے۔ عوام سے گزارش کی گئی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً حکام کو دیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کو روکا جا سکے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter