جہلم میں معروف مذہبی اسکالر اور یوٹیوبر انجینئر محمد علی مرزا پر مبینہ حملہ، ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق معروف مذہبی اسکالر اور یوٹیوبر انجینئر محمد علی مرزا پر جہلم اکیڈمی میں مبینہ طور پر حملے کا واقعہ پیش آیا ہے، تاہم وہ اس واقعے میں محفوظ رہے۔ ذرائع کے مطابق حملہ آور کو موقع پر ہی قابو پا کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ ملزم کو مزید تفتیش کے لیے تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق انجینئر محمد علی مرزا اپنے ہفتہ وار درس کے بعد حاضرین کے ساتھ فوٹو سیشن میں مصروف تھے کہ اسی دوران ایک نوجوان نے نعرہ لگاتے ہوئے خالی ہاتھ ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ اکیڈمی میں موجود سیکیورٹی گارڈز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو دبوچ لیا، جس کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم کی شناخت محمد عاصم کے نام سے ہوئی ہے، جو مبینہ طور پر ایبٹ آباد کا رہائشی ہے اور راولپنڈی کے علاقے صادق آباد میں کام کرتا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزم کا تعلق ایک کالعدم جماعت سے بتایا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے پولیس کی جانب سے باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
عمران خان طویل قید کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، انجینئر محمد علی مرزا کے انکشافات
اکیڈمی انتظامیہ کے مطابق حملہ آور بظاہر لیکچر سننے کی غرض سے اکیڈمی میں داخل ہوا تھا اور اچانک حملہ آور ہونے کی کوشش کی۔ واقعے کے بعد انجینئر محمد علی مرزا مکمل طور پر محفوظ رہے اور صورتِ حال کو فوری طور پر کنٹرول کر لیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں، ملزم سے تفتیش کے بعد حقائق سامنے لائے جائیں گے جبکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
