ترکی کے حکام نے ادرنہ صوبے میں ایک کارروائی کے دوران 18 افغان مہاجرین کو گرفتار کیا، جو غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، جنہیں بعد ازاں ملک بدری کے عمل کے لیے متعلقہ مراکز منتقل کر دیا گیا۔
ادرنہ: یورپ کی راہداری
ادرنہ ترکی کا ایک اہم سرحدی صوبہ ہے، جو یورپ پہنچنے کے لیے تارکینِ وطن کی اہم راہداری سمجھا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق یہاں ہر سال ہزاروں افراد زمینی راستوں کے ذریعے یورپی ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس خطے میں سخت سرحدی نگرانی کے باوجود غیر قانونی کوششیں اکثر رپورٹ ہوتی رہتی ہیں۔
ترک حکام کی کارروائی
ترکی کی سرحدی فورسز کے مطابق یہ گرفتاری ایک منظم آپریشن کے دوران عمل میں آئی، جس کا مقصد زمینی راستوں کے ذریعے یورپ میں غیر قانونی داخلے کی کوشش کرنے والے افراد کو روکنا تھا۔ اس کارروائی میں گرفتار مہاجرین کو فوری طور پر سرحدی مراکز منتقل کیا گیا تاکہ قانونی کارروائی کی جائے۔
غیر قانونی ہجرت کے اعداد و شمار
ترک ڈائریکٹوریٹ جنرل آف مائیگریشن مینجمنٹ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ملک بھر میں ایک لاکھ 52 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکینِ وطن کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں سے تقریباً 42 ہزار افغان شہری تھے، جو اپنے ملک میں جاری بحران یا بہتر زندگی کی تلاش میں غیر قانونی راستے اختیار کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، ترکی کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکینِ وطن میں افغان شہریوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ ملک میں جاری سیاسی اور معاشی بحران ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی تاکہ غیر قانونی ہجرت پر قابو پایا جا سکے اور انسانی جانوں کو خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
