لاہور کے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر (پی کے ایل آئی) میں روبوٹ کی مدد سے لبلبے کے کینسر کی ایک کامیاب سرجری انجام دی گئی ہے، جس سے طبی میدان میں ایک اور اہم سنگ میل طے ہوا۔
روبوٹک سرجری کی خصوصیات
پی کے ایل آئی کے ڈین ڈاکٹر فیصل سعود ڈار نے بتایا کہ ادارے نے اب تک 500 سے زائد روبوٹک سرجریاں کامیابی سے انجام دی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ روبوٹک سرجری کی مدد سے بڑے اور پیچیدہ آپریشنز اب چھوٹی کٹس (small incisions) کے ذریعے کیے جا سکتے ہیں، جس سے مریض کی صحت یابی اور ریکوری کے امکانات زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔
جگر اور لبلبے کے کینسر میں پیش رفت
ڈاکٹر فیصل سعود ڈار نے بتایا کہ پیچیدہ جگر کے کینسر کی سرجری بھی پی کے ایل آئی میں روبوٹ کی مدد سے کامیابی کے ساتھ کی جا چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی کے ایل آئی جدید اعضا کی پیوندکاری (organ transplantation) اور کینسر سرجری کے لیے ملک میں ایک نمایاں مرکز بنتا جا رہا ہے۔
کینسر کے علاج میں اہمیت
جگر اور لبلبے کے کینسر اکثر جان لیوا ثابت ہوتے ہیں اور ان کا علاج مشکل ہوتا ہے۔ تاہم سرجری کے ذریعے مریض کے بچنے کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔ روبوٹک سرجری کی جدید تکنیک نہ صرف پیچیدہ سرجری کو ممکن بناتی ہے بلکہ مریض کے لیے درد اور ریکوری کے وقت کو بھی کم کرتی ہے۔
مستقبل کی راہیں
پی کے ایل آئی کے ماہرین کی یہ کوشش پاکستان میں جدید طبی ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے اور کینسر کے علاج میں عالمی معیار قائم کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ روبوٹک سرجری کی بدولت نہ صرف پیچیدہ آپریشنز محفوظ طریقے سے کیے جا سکتے ہیں بلکہ ملک میں مریضوں کو اعلیٰ معیار کی جدید صحت کی سہولیات بھی فراہم ہو رہی ہیں۔
