سب سے پہلے بنگلہ دیش: طارق رحمان کا پاکستان اور بھارت کے لیے پیغام

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں نومنتخب وزیراعظم طارق رحمان نے پاکستان اور بھارت کے لیے محتاط مگر واضح پیغام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی تشکیل کے بعد بنگلہ دیش سارک کو دوبارہ متحرک کرنے پر کام کرے گا، کیونکہ یہ قدم بنگلہ دیش کا خود کا اقدام تھا۔

latest urdu news

تاریخی پس منظر اور موجودہ تعلقات

طارق رحمان نے میڈیا کے سامنے بتایا کہ 1971 میں بنگلہ دیش کے علیحدہ ہونے میں پاکستان کی غلط پالیسیوں کے ساتھ بھارت نے بھی کردار ادا کیا، اور اب 2024 میں بھارت نے اپنی پالیسیوں کی وجہ سے بنگلہ دیش سے دوری اختیار کر لی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کے راستے بہتر اور ہموار ہو گئے ہیں۔

ایک بنگلہ دیشی نوجوان نے کہا، “ہم پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ یکساں اور بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔ ایک 1971 میں ہمیں نقصان پہنچانے والا تھا اور دوسرا 2024 میں، لیکن ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔” اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش عوامی سطح پر ماضی کے زخموں کے باوجود علاقائی ہم آہنگی چاہتا ہے۔

سیاسی حساسیت اور عوامی رجحانات

عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ کے بھارت جانے کے بعد عوام میں بھارتی حکومت مخالف جذبات پائے گئے، مگر یہ جذبات عوام کے خلاف نہیں بلکہ پالیسیوں کے خلاف تھے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان 4096 کلومیٹر لمبی سرحد اور 54 بڑے چھوٹے دریا دونوں ممالک کو جوڑتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کی سالانہ تجارت 14 سے 16 ارب ڈالر کے درمیان ہے، جو اقتصادی تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

طارق رحمان نے عدالتی عمل کے حوالے سے کہا کہ شیخ حسینہ یا کسی بھی شخص کے خلاف کوئی اقدام صرف قانونی دائرے میں ہوگا، اور انہوں نے عوامی اور سیاسی جذبات میں توازن برقرار رکھتے ہوئے کسی کو ناراض نہ کرنے کی حکمت عملی اپنائی۔

پاکستان کے ساتھ تعلقات

ڈھاکہ میں پاکستانیوں کو خوش آمدید کہا جاتا ہے، اور کئی پاکستانی خاندان یہاں پرانے یادگار لمحات یاد کر کے تعلقات کو مضبوط کر رہے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ ہائی کمشنر عمران حیدر اور ان کی ٹیم بھی سماجی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کی مجموعی تجارت 865 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔

داخلی سیاست اور مخالفین کے ساتھ رویہ

طارق رحمان نہ صرف بیرونی تعلقات بلکہ داخلی سیاست میں بھی محتاط اور منظم رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ وہ مخالفین کے ساتھ بھی عزت اور احترام کا برتاؤ کرتے ہیں، چاہے وہ سابق وزیراعظم یا سیاسی حریف ہوں۔ اس رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی تعمیر اور علاقائی تعاون کے لیے مخالفین کو بھی عزت دینا ضروری ہے۔

خطے کے لیے ممکنہ اثرات

طارق رحمان کی قیادت میں بنگلہ دیش کی پہلی ترجیح ملک کے مفادات ہیں، اور وہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو اپنی حکمت عملی میں توازن دینے کے لیے کام کریں گے۔ اگر سارک کو دوبارہ متحرک کیا گیا تو یہ خطے میں امن، اقتصادی ترقی اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے جنوبی ایشیا میں محبت اور اتحاد کو فروغ ملے گا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter