ایران نے اپنے میزائل پروگرام کو ایک مرتبہ پھر “ریڈ لائن” قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس معاملے پر کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ قومی دفاعی صلاحیت پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
عرب ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر مشیر علی شمخانی نے کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام ملک کی دفاعی حکمتِ عملی کا بنیادی جزو ہے اور اسے کسی مذاکراتی ایجنڈے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق، اس موضوع پر بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ یہ ایران کی خودمختاری اور قومی سلامتی سے جڑا معاملہ ہے۔
علی شمخانی نے خبردار کیا کہ ایرانی فوج مکمل طور پر ہائی الرٹ ہے اور کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کا فوری، فیصلہ کن اور متناسب جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی طاقتوں کی جانب سے کسی بھی غلط اندازے یا مہم جوئی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
ایران سے معاہدہ نہ ہوا تو سخت نتائج ہوں گے، صدر ٹرمپ کا انتباہ
ایرانی رہنما نے مزید کہا کہ مذاکرات اسی صورت میں ممکن ہیں جب وہ حقیقت پسندی پر مبنی ہوں اور غیر ضروری یا یکطرفہ مطالبات سے گریز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران دباؤ یا دھمکی کے ماحول میں بات چیت پر آمادہ نہیں ہوگا، تاہم باہمی احترام کی بنیاد پر سفارتی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی اور سفارتی سرگرمیاں بیک وقت جاری ہیں، اور عالمی برادری ایران کے جوہری اور دفاعی پروگرام سے متعلق پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
