وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے عدالتی معاون کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں بانی پاکستان تحریک انصاف کی آنکھوں کی بیماری سے متعلق دی گئی معلومات میں نمایاں تضادات پائے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیماری کی ٹائم لائن اور طبی معائنے کی تفصیلات میں ہم آہنگی نہیں، جس کی وجہ سے رپورٹ کی ساکھ پر سوال اٹھتے ہیں۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے واضح کیا کہ حکومت سپریم کورٹ کے واضح اور تحریری احکامات کے بغیر کسی بھی قسم کا خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل نہیں دے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی دائرہ اختیار کے تحت ہی کسی قیدی یا زیرِ حراست شخص کے طبی معائنے سے متعلق فیصلے کیے جاتے ہیں، اور حکومت اس قانونی فریم ورک کی پابند ہے۔ ان کے مطابق، نجی اسپتالوں کے ڈاکٹروں یا کسی ذاتی معالج کو چیک اپ کے لیے بھیجنے کا اختیار بھی عدالت کی اجازت سے مشروط ہے۔
وزیر مملکت نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے اگر میڈیکل بورڈ بنایا جاتا ہے تو وہ صرف سرکاری اسپتالوں کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ حکومتی سطح پر نجی معالجین کو سرکاری عمل میں شامل کیا جائے، الا یہ کہ عدالت اس کی منظوری دے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں بھی ایسے معاملات کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دیا گیا۔
عمران خان کی آنکھ کی حالت پر بہت دکھ ہے:محمود قریشی
بیرسٹر عقیل ملک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت شفافیت اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے۔ ان کے مطابق، طبی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ہر قدم آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہ کر ہی اٹھایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض حلقوں کی جانب سے اس معاملے کو سیاسی بیانیے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، حالانکہ حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ وہ عدالت کے احکامات کی مکمل پاسداری کرے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس معاملے پر غیر ضروری قیاس آرائیوں کے بجائے قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے گا تاکہ شفاف اور منصفانہ عمل یقینی بنایا جا سکے۔
