جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے عیدالفطر کے بعد ملک بھر میں عوامی تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چاروں صوبوں کا دورہ کریں گے اور عوامی سطح پر رابطہ مہم کو منظم انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ملکی حالات میں خاموش رہنا ممکن نہیں، اس لیے عوامی آواز کو منظم پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تحریک کا مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور سیاسی و آئینی معاملات پر واضح مؤقف سامنے لانا ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں سے بھی رابطے کیے جائیں گے تاکہ مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔ ان کے مطابق، یہ تحریک محض سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ عوامی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد ہوگی۔
اس موقع پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان بھی موجود تھے۔ دونوں رہنماؤں نے ملکی اور بین الاقوامی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ 19 فروری کو “غزہ امن بورڈ” کا ایک اہم اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے، جس میں فلسطین کی موجودہ صورتحال پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے اور عالمی برادری کو اس مسئلے پر سنجیدہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
جے یو آئی کا فضل الرحمان کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر اہم اعلان
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے مختلف فورمز پر آواز بلند کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امتِ مسلمہ کو اس معاملے پر متحد ہونا چاہیے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مشترکہ مؤقف اپنانا ضروری ہے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ امن بورڈ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ تفصیلی مشاورت ہوئی ہے اور اس سلسلے میں رابطوں کا عمل جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سیاسی حالات اور عالمی منظرنامے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے تاکہ آئندہ کے لیے مربوط حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔
دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی اور بین الاقوامی مسائل پر مشترکہ آواز بلند کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے گا، جبکہ عیدالفطر کے بعد متوقع عوامی تحریک کی تیاریوں کو بھی حتمی شکل دی جائے گی۔
