امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے دوبارہ بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
حالیہ دنوں عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا ایک دور منعقد ہوا تھا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق ان بات چیت سے ایران کو امریکا کی سنجیدگی کا اندازہ لگانے کا موقع ملا اور آئندہ سفارتی عمل کو جاری رکھنے کے لیے کچھ ہم آہنگی بھی پیدا ہوئی۔ تاہم خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافے کے امکانات نے غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار جہاز کو خطے میں تعینات کر چکی ہے، جس کے بعد ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی تھیں۔ اب صدر ٹرمپ کی جانب سے دوسرے ایئرکرافٹ کیریئر کی تعیناتی پر غور کا بیان سفارتی اور عسکری حلقوں میں نئی بحث چھیڑ رہا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا کو “انتہائی سخت اقدامات” اٹھانے پڑ سکتے ہیں۔ اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ یا تو کوئی قابلِ قبول معاہدہ ہوگا یا پھر واشنگٹن سخت راستہ اختیار کرے گا۔
ایران معاہدے میں ناکام ہوا تو سخت کارروائی ہوگی: ٹرمپ
امریکی حکام کے مطابق ممکنہ طور پر یو ایس ایس جارج واشنگٹن، یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش یا یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کو خطے میں بھیجا جا سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان بحری جہازوں کو مشرقِ وسطیٰ پہنچنے میں کم از کم ایک ہفتہ درکار ہوگا۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اضافی بحری طاقت کی تعیناتی ایک جانب ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہو سکتی ہے، تو دوسری جانب اسے مذاکرات میں برتری حاصل کرنے کی کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ صورتحال کے پیشِ نظر خطے میں سفارتی سرگرمیاں اور عسکری تیاری دونوں ہی اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔
