پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جنید اکبر نے کہا ہے کہ پارٹی میں بانی چیئرمین عمران خان کے بعد ہر شخص خود کو لیڈر سمجھتا ہے، تاہم وہ عمران خان کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں اور جو فیصلہ وہ کریں گے وہی حتمی ہوگا۔
اڈیالہ جیل روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جنید اکبر نے کہا کہ پی ٹی آئی ان کا گھر ہے اور گھر میں ناراضی، اختلاف اور شکوے شکایات ہوتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ دنوں یہ شکوہ کیا تھا کہ انہیں بات کرنے کا موقع نہیں دیا جا رہا اور تقاریر میں بعض امور کی وضاحت نہیں کی جاتی، جس پر وہ مطمئن نہیں تھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ انہیں محمود خان اچکزئی پر کوئی ذاتی تحفظات نہیں اور نہ ہی وہ اس حوالے سے اعتراض اٹھانے کا اختیار رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اچکزئی کو پارٹی کے ماحول میں ہم آہنگ ہونے میں کچھ وقت درکار ہوگا کیونکہ ہر جماعت کا اپنا ایک کلچر ہوتا ہے۔
پارٹی میری ہے مجھے عمران خان بھی نہیں نکال سکتا:جنید اکبر
جنید اکبر نے کہا کہ جب پارٹی میں مختلف رہنماؤں کو آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے تو اختلاف رائے سامنے آتا ہے، جبکہ دیگر جماعتوں میں قیادت کا ڈھانچہ مختلف ہوتا ہے جہاں فیصلے پہلے سے طے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں جمہوری انداز موجود ہے، اسی لیے اختلافات بھی سامنے آتے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اپنی مبینہ آڈیو لیک کی تصدیق کرتے ہوئے جنید اکبر نے کہا تھا کہ انہیں اظہارِ خیال کا مناسب موقع نہیں دیا جا رہا اور وہ اس حوالے سے اسپیکر کو خط لکھ کر علیحدہ نشست کی درخواست کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ وہ پارلیمانی کمیٹی کا حصہ نہیں رہیں گے۔
