سندھ اسمبلی نے صوبے بھر میں شراب خانوں کے لائسنس منسوخ کرنے اور خرید و فروخت پر پابندی کی قرارداد کو مسترد کر دیا۔
یہ قرارداد ایم کیو ایم کے رکن انیل کمار کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جس میں صوبے میں شراب کی خرید و فروخت پر پابندی اور تمام لائسنس کی منسوخی کی تجویز دی گئی تھی۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شراب خانوں پر پابندی لگانے سے معاشرے کے مختلف طبقات متاثر ہوں گے، اس لیے حکومت اس تجویز کی حمایت نہیں کر سکتی۔ بحث کے بعد اسمبلی نے قرارداد کو مسترد کر دیا۔
اس موقع پر جماعت اسلامی کے رکن فاروق فرحان نے پولیس کی کارروائی پر نکتہ اعتراض اٹھایا اور کہا کہ صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس کے دوران پولیس نے کیمپ اکھاڑ دیا اور ساؤنڈ سسٹم ہٹا لیا۔
سندھ اسمبلی اجلاس: اپوزیشن کا کراچی میں ای چالان کی رقم کم کرنے کا مطالبہ
وزیر داخلہ نے کہا کہ محمد فاروق کی گرفتاری کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہوگی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شاہراہ فیصل پر عوامی لاؤڈ اسپیکر لگانے اور روڈ بند کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کے احکامات ہیں، کیونکہ یہ شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
یہ معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سندھ میں شراب خانوں پر پابندی کے حوالے سے سیاسی اور معاشرتی اختلافات موجود ہیں، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس ضمن میں فعال ہیں۔
