پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جنید اکبر کی مبینہ آڈیو لیک اورپارٹی چھوڑنے کی دھمکی کے بعد وضاحتی بیان بھی سامنے آ گیا۔
جنید اکبر نے اسلام آباد میں صحافی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ان کی انہیں پارٹی سے کوئی نہیں نکال سکتا اور نہ ہی انہوں نے پارٹی چھوڑنے کی بات کی ،صرف یہ کہا کہ انہیںپارلیمنٹ میں الگ نشت دی جائے تا کہ وہ کھل کر بات کر سکیں۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پارٹی ان کی انہیں پارٹی سے کوئی نہیں نکال سکتا ، انہیں پارٹی سے عمران خان بھی نہیں نکال سکتے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جنید اکبر کی مبینہ آڈیو لیک سامنے آگئی، جس میں انہوں نے ایوان میں بولنے کا موقع نہ ملنے پر پارٹی قیادت اور پارلیمانی نظم و ضبط پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
مبینہ آڈیو میں جنید اکبر پارٹی گروپ میں اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا انہیں بار بار ایوان میں بولنے سے روکا جا رہا ہے، جس پر ان کی برداشت ختم ہو چکی ہے۔
آڈیو میں جنید اکبر نے پارلیمانی کمیٹی سےعلیحدگی اور چیف وہپ سمیت پارلیمانی لیڈر کو ماننے سے انکار کیا۔
رہنما پی ٹی آئی نے مبینہ آڈیو میں اسپیکر سے بات کرکے آزاد حیثیت اختیار کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا میری برداشت ختم ہو گئی ،مجھےالگ کریں پارلیمانی پارٹی کاحصہ نہیں ہوں۔
جنید اکبر کا پی ٹی آئی کی نشست چھوڑنے کا اعلان
آڈیو میں انھوں نے پارٹی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “یہ درباری ہیں، ہمیں بولنے نہیں دیتے، کیا ہم ایوان میں چھولے کھانے آتے ہیں؟”۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں صرف آخری رمضان یا بجٹ کے دوران ہی بولنے کا موقع ملا، جبکہ ہر بار چند مخصوص افراد ہی گفتگو کرتے ہیں۔
مبینہ آڈیو میں رہنما پی ٹی آئی نے چیف وہپ کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ چیف وہپ کون ہوتا ہے جو یہ فیصلہ کرے کہ ایوان میں کون بولے گا۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ پارٹی ان کی شرافت کو کمزوری سمجھ رہی ہے اور روزانہ وہی چند لوگ بولتے ہیں جبکہ باقی ارکان صرف ڈیسک بجانے تک محدود رہتے ہیں۔
جنید اکبر نے آڈیو میں یہ بھی کہا کہ کسی میں ہمت نہیں کہ یہ سوال کرے کہ محسن نقوی ایوان میں کیوں نہیں آئے، جبکہ چند لوگ ہر بار ایک ہی موضوع پر بات کرتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ آج سے پارلیمانی کمیٹی اور موجودہ پارٹی نظم کا حصہ نہیں ہیں۔
مبینہ آڈیو میں رہنما کا مزید کہنا تھا کہ وہ سخت مؤقف رکھتے ہیں، اسی لیے کسی “درباری” نے شاید کہا ہوگا کہ ان کا نام نہ دیا جائے۔
