امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں استحکام برقرار رہنے سے اسرائیل محفوظ رہے گا۔ وائٹ ہاؤس کے عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ فلسطینی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا امریکی قیام امن کے عالمی اہداف کے مطابق ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس نے یہ بھی واضح کیا کہ صدر ٹرمپ مغربی کنارے میں کسی بھی یکطرفہ قبضے کی حمایت نہیں کرتے اور اس حوالے سے فلسطینی علاقوں میں استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری جانب برطانوی حکومت نے بھی اسرائیل کی مغربی کنارے پر قبضے کی وسعت دینے کی کوشش کی مذمت کی۔ برطانیہ نے کہا کہ فلسطین کی جغرافیائی ساخت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنا ناقابل قبول ہے اور ایسی کوئی بھی کارروائی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔ اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے فیصلے فوری طور پر واپس لے۔
ایران بات چیت کی راہ پر آ گیا، حملے سے بچنا چاہتا ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
ادھر پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ مسلم ممالک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کا فلسطینی علاقوں پر کوئی حقِ خودمختاری نہیں، اور یہ اقدامات مغربی کنارے کے غیر قانونی الحاق اور فلسطینی عوام کی بے دخلی کی کوششوں کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر یہ موقف واضح کرتا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضے کی توسیع نہ صرف خطے میں تناؤ بڑھا رہی ہے بلکہ عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ سمیت دیگر اہم ممالک، اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور فلسطینی علاقوں میں استحکام کے لیے اقدامات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
