ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں جنوبی افریقا نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کینیڈا کو 57 رنز کے واضح مارجن سے شکست دے دی۔ احمد آباد میں کھیلے گئے اس میچ میں جنوبی افریقی ٹیم نے بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں مکمل برتری قائم رکھی اور ٹورنامنٹ میں اپنی پوزیشن مضبوط کر لی۔
میچ میں جنوبی افریقا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 213 رنز بنائے۔ کپتان ایڈن مارکرم نے ذمہ دارانہ اور جارحانہ انداز میں 59 رنز کی اننگز کھیلی اور ٹیم کو بڑے اسکور تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے علاوہ ڈیوڈ ملر نے 39 رنز بنائے جبکہ ٹرسٹن اسٹبس 34 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ جنوبی افریقی بلے بازوں نے کینیڈین بولرز پر دباؤ برقرار رکھا اور باقاعدگی سے باؤنڈریز حاصل کیں۔
کینیڈا کی جانب سے انش پٹیل واحد کامیاب بولر ثابت ہوئے جنہوں نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، تاہم مجموعی طور پر کینیڈین بولنگ لائن اپ جنوبی افریقی بیٹنگ کے سامنے بے بس نظر آئی اور حریف ٹیم کو بڑا ہدف دینے سے نہ روک سکی۔
214 رنز کے مشکل ہدف کے تعاقب میں کینیڈا کی ٹیم ابتدا ہی سے دباؤ کا شکار رہی۔ مقررہ اوورز میں کینیڈین ٹیم 8 وکٹوں کے نقصان پر صرف 156 رنز ہی بنا سکی۔ نوینت دھلیوال نے 64 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیل کر کچھ دیر تک مقابلہ زندہ رکھنے کی کوشش کی، تاہم دوسرے اینڈ سے انہیں خاطر خواہ سپورٹ نہ مل سکی۔ ہرش ٹھاکر 33 رنز کے ساتھ دوسرے نمایاں بیٹر رہے، جبکہ کپتان دلپریت باجوہ صفر پر آؤٹ ہو کر ٹیم کے لیے مایوسی کا سبب بنے۔
آسٹریلیا کے فاسٹ بولر جوش ہیزل ووڈ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر
جنوبی افریقا کے بولرز نے نظم و ضبط کے ساتھ بولنگ کرتے ہوئے کینیڈا کی بیٹنگ لائن کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ لونگی نگیدی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 وکٹیں حاصل کیں اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ مارکو جینسن نے دو اہم وکٹیں حاصل کیں جبکہ کگیسو ربادا اور کوربن بوش نے ایک، ایک کھلاڑی کو پویلین کی راہ دکھائی۔
اس فتح کے ساتھ جنوبی افریقا نے نہ صرف اہم پوائنٹس حاصل کیے بلکہ اپنے مضبوط اسکواڈ اور متوازن کھیل کا بھی واضح پیغام دیا۔ دوسری جانب کینیڈا کو ٹورنامنٹ میں آگے بڑھنے کے لیے اپنی بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں نمایاں بہتری کی ضرورت ہوگی۔
