مشہور انگریزی گانے ’ٹو مچ‘ سے عالمی شہرت حاصل کرنے والے برطانوی گلوکار اور ریپر سینٹرل سی نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اصل نام اوکلی نیل سیزر-سو رکھنے والے فنکار نے لائیو اسٹریمنگ کے دوران نہ صرف اسلام قبول کرنے کی تصدیق کی بلکہ اپنا نام تبدیل کرنے کا بھی اعلان کیا۔ ان کے اس فیصلے نے دنیا بھر میں موجود ان کے مداحوں کو حیران اور متاثر کر دیا ہے۔
لائیو اسٹریم کے دوران سینٹرل سی نے بتایا کہ انہوں نے کلمہ شہادت پڑھ لیا ہے اور اب وہ مسلمان ہیں۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنا پہلا نام اوکلی تبدیل کر کے عقیل رکھ لیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کلمہ شہادت ادا کیا جبکہ ان کے قریبی دوست بھی موجود تھے، جنہوں نے انہیں اس نئے روحانی سفر کے آغاز پر مبارکباد دی۔
27 سالہ ریپر نے اگرچہ اسلام قبول کرنے کے پس منظر یا ذاتی روحانی تجربات پر تفصیل سے بات نہیں کی، تاہم ان کے اس اعلان کو مداحوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مثبت ردعمل ملا۔ کئی صارفین نے ان کے فیصلے کو ذاتی آزادی اور روحانی جستجو کا مظہر قرار دیا، جبکہ بہت سے افراد نے انہیں نیک تمناؤں کے پیغامات بھی دیے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماضی میں بھی سینٹرل سی کی بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں عربی کیپشنز اور اسلامی ثقافت سے جڑی علامات دیکھی جاتی رہی تھیں، جس کے بعد مداحوں میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ وہ شاید اسلام کے قریب ہو رہے ہیں۔ تاہم اس سے قبل انہوں نے کبھی کھل کر اپنے مذہبی عقائد پر بات نہیں کی تھی۔
سینٹرل سی 4 جون 1998 کو لندن میں پیدا ہوئے اور انہوں نے 2014 میں موسیقی کے کیریئر کا آغاز کیا۔ وقت کے ساتھ وہ برطانوی ڈرل اور ریپ میوزک کے نمایاں ناموں میں شامل ہو گئے۔ ان کی موسیقی عام زندگی کے مسائل، ذاتی جدوجہد اور سماجی حقائق کی عکاسی کرتی ہے، جس نے انہیں نوجوان نسل میں بے حد مقبول بنایا۔
2024 میں سینٹرل سی کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ سنے جانے والے برطانوی ریپر کا اعزاز بھی حاصل ہوا، جبکہ ان کے گانوں کو مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اربوں بار سنا جا چکا ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ان کے مستقبل کے فنی سفر اور موسیقی میں ممکنہ تبدیلیوں پر مداحوں کی نظریں مرکوز ہیں۔
