جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے موجودہ حکومت کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں عوامی رائے کے بجائے جعلی مینڈیٹ کے سہارے حکومت قائم کی گئی، جو جمہوریت کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔
اسلام آباد میں جے یو آئی کے یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر شفاف، آزاد اور منصفانہ طریقے سے حکومت بنائی جائے تو ہم اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ طرزِ حکمرانی نے عوام کا اعتماد مجروح کیا ہے۔
انہوں نے سی پیک منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو عالمی تجارت کے لیے منتخب کیا گیا تھا، مگر سابقہ پی ٹی آئی حکومت میں اس منصوبے کو نقصان پہنچا اور موجودہ حکومت کے دور میں بھی اس میں کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی۔
کم عمری کی شادی سے متعلق قانون غیر اسلامی ہے: مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان نے معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کاروباری سرگرمیاں زوال کا شکار ہیں اور پاکستانیوں کا سرمایہ و محنت بیرونِ ملک منتقل ہو رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ الزام تراشی اور انتہا پسندی کی سیاست کے قائل نہیں بلکہ اعتدال، دلیل اور جمہوری رویے پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ 8 فروری کے نتائج معاشی اور سکیورٹی ناکامیوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
