اسلام آباد میں حالیہ خودکش حملے کے بعد امریکا نے پاکستان کے حوالے سے نئی سکیورٹی ایڈوائزری جاری کر دی ہے، جس میں اپنے شہریوں کو سفر کے دوران احتیاط برتنے اور سکیورٹی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔
سکیورٹی ایڈوائزری کی تفصیلات
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں موجود یا یہاں سفر کرنے والے امریکی شہری اپنی ذاتی سکیورٹی منصوبہ بندی کا از سرِ نو جائزہ لیں اور غیر ضروری عوامی اجتماعات میں شرکت سے گریز کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ مقامی میڈیا اور سرکاری ذرائع سے حالاتِ حاضرہ کی معلومات باقاعدگی سے حاصل کرتے رہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت آگاہی حاصل ہو سکے۔
ایڈوائزری میں زور دیا گیا ہے کہ سفر کے دوران محتاط رہنا، ہجوم والی جگہوں سے دور رہنا اور ہنگامی صورت حال کے لیے پیشگی تیاری رکھنا ضروری ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس نوعیت کی ہدایات شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے معمول کے طریقہ کار کا حصہ ہوتی ہیں، خاص طور پر ایسے واقعات کے بعد جب کسی بڑے شہر میں سکیورٹی خدشات بڑھ جائیں۔
اسلام آباد خودکش حملہ: پس منظر
یہ سکیورٹی الرٹ وفاقی دارالحکومت کے نواحی علاقے ترلائی کلاں میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد جاری کیا گیا۔ دو روز قبل نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے اس حملے میں 33 افراد جاں بحق جبکہ 150 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے نے نہ صرف مقامی سطح پر تشویش کو جنم دیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سکیورٹی صورتحال پر توجہ مبذول کرائی۔
اسلام آباد خودکش حملہ: افغانی ماسٹر مائنڈ گرفتار
حکام کے مطابق حملے کی تحقیقات جاری ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کے ذمہ دار عناصر تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دوران مختلف ممالک کی جانب سے اپنے شہریوں کے لیے احتیاطی ہدایات جاری کرنا ایک معمول کا عمل سمجھا جاتا ہے۔
عالمی سفری ہدایات کا تناظر
امریکا سمیت کئی ممالک اپنے شہریوں کے لیے باقاعدگی سے سفری ایڈوائزریز جاری کرتے ہیں، جن کا مقصد خطرات سے آگاہی فراہم کرنا ہوتا ہے۔ ان ہدایات میں عموماً مقامی سکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے ممکنہ خدشات اور ہنگامی اقدامات سے متعلق رہنمائی شامل ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسی ایڈوائزریز کسی ملک کے خلاف اقدام نہیں ہوتیں بلکہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کا حصہ ہوتی ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان کے حوالے سے جاری حالیہ الرٹ کو بھی ایک احتیاطی قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد امریکی شہریوں کو ممکنہ خطرات سے باخبر رکھنا ہے۔
