اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات میں سکیورٹی اداروں کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جہاں حملے کے افغانی ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ اس کے چار سہولت کار بھی حراست میں لے لیے گئے ہیں۔ یہ پیش رفت گزشتہ روز ترلائی کلاں میں ہونے والے ہولناک خودکش دھماکے کی تحقیقات کے دوران سامنے آئی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق انٹیلیجنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کارروائیاں کرتے ہوئے پشاور اور نوشہرہ میں متعدد چھاپے مارے۔ یہ آپریشنز جدید ٹیکنیکل ذرائع اور ہیومن انٹیلیجنس کی بنیاد پر کیے گئے، جن کے نتیجے میں حملے میں ملوث اہم کرداروں تک رسائی ممکن ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار کیا گیا ماسٹر مائنڈ افغان شہری ہے اور اس کا تعلق کالعدم دہشت گرد تنظیم داعش سے ہے۔ تحقیقات کے مطابق اسی شخص نے خودکش حملہ آور کو ہدایات دیں اور منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ گرفتار ہونے والے چار سہولت کاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے حملہ آور کو لاجسٹک سپورٹ، رہائش اور نقل و حرکت میں مدد فراہم کی۔
سکیورٹی حکام کے مطابق گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ان سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔ ادارے اس نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ ارکان، رابطوں اور سہولت کاروں کی نشاندہی کے لیے مختلف شہروں میں سرچ آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اسلام آباد خودکش دھماکہ: حملہ آور کے دو بھائی، بہنوئی اور ایک خاتون گرفتار
یاد رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں جمعے کی نماز کے دوران خودکش دھماکہ ہوا تھا، جس میں 33 افراد شہید جبکہ 150 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ یہ واقعہ ملک بھر میں شدید غم و غصے اور سوگ کا باعث بنا۔
سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری ہے اور اس واقعے میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد نہ صرف اس حملے کے ذمہ داروں کو سزا دینا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کو بھی یقینی بنانا ہے۔
