دہشت گرد حملے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کا اہم فیصلہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے ہولناک خودکش دھماکے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بسنت کے موقع پر اپنی تمام طے شدہ مصروفیات منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

latest urdu news

اس فیصلے کو قومی سطح پر یکجہتی، سوگ اور سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں ایک اہم اور بروقت اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں بتایا کہ لاہور کے لبرٹی اسکوائر میں منعقد ہونے والا میگا بسنت شو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں تفریحی سرگرمیوں کے بجائے قومی اتحاد اور شہداء کے ساتھ اظہارِ یکجہتی زیادہ ضروری ہے۔

نواز شریف نے بھی بسنت منانے کا پروگرام بنا لیا،دوستوں کے ساتھ یادیں تازہ کریں گے

مریم نواز نے اپنے پیغام میں زور دیا کہ پوری قوم کو خوارج اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست دشمن عناصر کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم کو ایک صف میں کھڑا ہونا ہوگا۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں واقع مسجد و امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں جمعے کی نماز کے دوران خودکش دھماکہ ہوا، جس نے پورے ملک کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔ اس افسوسناک واقعے میں اب تک تقریباً 30 افراد جاں بحق جبکہ 150 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کی شناخت کر لی گئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملہ آور نے افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کی تھی اور وہ متعدد بار افغانستان کا سفر بھی کر چکا تھا۔ سیکیورٹی ادارے اس نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں اور روابط کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔

مزید برآں حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد تنظیمیں طالبان رجیم کی سرپرستی میں خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں ہونے والی ہر بڑی دہشت گرد کارروائی کے پیچھے افغانستان اور بھارت کے گٹھ جوڑ کے شواہد ملتے رہے ہیں، جن پر عالمی برادری کو سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔

سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے فیصلے کو ذمہ دارانہ اور حساس اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عوام کی جانب سے بھی اس فیصلے پر مثبت ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حالات کے پیش نظر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور ملک بھر میں الرٹ جاری ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter