اسلام آباد ہائی کورٹ نے فراڈ کیس میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی گرفتاری کو مؤخر کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت نے اسپیشل جج سینٹرل کے قبل از گرفتاری ضمانت کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو معطل کر دیا اور فریقین کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے حکم نامے میں کہا کہ پٹیشنر کے وکیل کے مطابق ٹرائل کورٹ نے 16 جنوری کو وجوہات کے ساتھ نجف حمید کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی تھی، لیکن بعد ازاں بغیر کسی وضاحت کے وہ آرڈر واپس لے لیا گیا۔ عدالت نے مؤقف اپنایا کہ آئندہ سماعت تک ضمانت منسوخی کا آرڈر معطل رہے گا، جس کے نتیجے میں نجف حمید کو گرفتاری سے عارضی تحفظ حاصل ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ اسپیشل جج سینٹرل نے 16 جنوری کو نجف حمید کی قبل از گرفتاری ضمانت کی منظوری کو واپس لے لیا تھا، جس کے بعد نجف حمید نے 24 جنوری کے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت 24 فروری تک ملتوی
یہ کیس کرپشن اور فراڈ سے متعلق الزامات پر مبنی ہے اور عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ نجف حمید کے مؤقف اور قانونی تحفظات کی روشنی میں سامنے آیا ہے، جس سے قبل از گرفتاری ضمانت کے سلسلے میں قانونی پیچیدگیوں پر عبور حاصل کرنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد کیس کی مزید سماعت تک نجف حمید کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائی محدود ہو جائے گی اور عدالت سے حتمی رہنمائی کا انتظار کیا جائے گا۔ اس دوران فریقین قانونی دلائل کے ساتھ عدالت میں پیش ہوں گے تاکہ معاملے کا آئندہ لائحہ عمل طے ہو سکے۔
