اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران خودکش دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں 15 معصوم نمازی شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے نے وفاقی دارالحکومت میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔
پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور کا تعلق فتنہ الخوارج سے بتایا جا رہا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور کو امام بارگاہ کے داخلی گیٹ پر روکا گیا، جس پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے کی شدت کے باعث مسجد کے اندر اور اطراف میں شدید نقصان پہنچا، جبکہ نمازیوں میں بھگدڑ مچ گئی۔
دھماکے کے فوری بعد پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور بم ڈسپوزل اسکواڈ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ شواہد اکٹھے کر کے واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ حملے کے پس منظر اور سہولت کاروں کا سراغ لگایا جا سکے۔
اسلام آباد : امام بارگاہ میں دھماکا، متعدد افراد زخمی
واقعے کے بعد اسلام آباد کے تمام بڑے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ حکام کے مطابق پمز اسپتال میں اب تک 60 زخمیوں کو لایا جا چکا ہے، جس کے باعث اسپتال میں زخمیوں کو رکھنے کی گنجائش ختم ہو گئی۔ صورتحال کے پیش نظر زخمیوں کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی اور حملے کی مکمل تحقیقات کے ساتھ ذمہ دار عناصر کے تعین کی ہدایت کی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ دھماکے میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے گی اور ملک میں شرپسندی و بے امنی پھیلانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیرِ اعظم نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی اور وزیرِ صحت کو علاج معالجے کے عمل کی براہِ راست نگرانی کا حکم دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور مزید تفصیلات سامنے آنے پر آگاہ کیا جائے گا۔
