لاہور میں بسنت کے موقع پر پتنگ بازی سے جڑی مارکیٹس میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے لیگل ایڈوائزر ایڈووکیٹ ملک فیضان احمد کے مطابق بسنت کے چار دنوں میں ڈور، گڈی، پتنگوں اور پنوں کی مجموعی خرید و فروخت ایک ارب 22 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شہر میں بسنت کا جوش و خروش پوری آب و تاب سے موجود ہے۔
ملک فیضان احمد نے بتایا کہ بسنت کے چوتھے روز کاروبار میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ صرف ایک دن میں تقریباً 68 کروڑ روپے کی خرید و فروخت ریکارڈ کی گئی، جو پچھلے تین دنوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق چوتھے روز پتنگوں کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود مارکیٹس میں دستیابی برقرار رہی اور خریداروں کی تعداد میں بھی کمی نہیں آئی۔
اعداد و شمار کے مطابق چوتھے روز لاہور کی مختلف مارکیٹس میں 10 لاکھ سے زائد گڈے پتنگیں فروخت ہوئیں جبکہ 20 ہزار سے زیادہ پنے بھی فروخت کیے گئے۔ ملک فیضان کا کہنا تھا کہ اس قدر بڑی تعداد میں فروخت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بسنت نہ صرف ایک ثقافتی تہوار ہے بلکہ اس سے ہزاروں افراد کا روزگار بھی وابستہ ہے۔
قیمتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ڈیڑھ تاوا گڈا 700 روپے، ایک تاوا 400 روپے جبکہ پونا تاوا 300 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح دو پیس پر مشتمل پنا 12 ہزار سے 15 ہزار روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مانگ بڑھنے کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوا، تاہم خریداروں کی دلچسپی بدستور برقرار ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کا 7 فروری کو لبرٹی چوک میں جشنِ بسنت منانے کا اعلان
ملک فیضان احمد نے مزید بتایا کہ بسنت کے پہلے روز 16 کروڑ روپے، دوسرے روز 18 کروڑ روپے اور تیسرے روز 20 کروڑ روپے کی خرید و فروخت ہوئی، جبکہ چوتھے روز کاروبار نے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ ان کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں مجموعی کاروبار مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اندرون موچی گیٹ مارکیٹ، اسلام پورہ، ساندہ، سمن آباد، نوناریاں، اچھرہ اور دیگر ملحقہ علاقوں میں پتنگوں، گڈوں اور پنوں کی خرید و فروخت زور و شور سے جاری ہے۔ دکانداروں کے مطابق بسنت کے باعث نہ صرف پرانی مارکیٹس آباد ہو گئی ہیں بلکہ نوجوانوں اور خاندانوں کی بڑی تعداد خریداری کے لیے بازاروں کا رخ کر رہی ہے۔
آخر میں ملک فیضان احمد کا کہنا تھا کہ بسنت لاہور کی ثقافت کا اہم حصہ ہے اور اس تہوار سے جڑی انڈسٹری کو منظم اور محفوظ طریقے سے فروغ دیا جانا چاہیے تاکہ ثقافتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ معاشی فوائد بھی حاصل کیے جا سکیں۔
