ٹرمپ کا سخت لہجہ، ایرانی سپریم لیڈر کو خبردار کر دیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو موجودہ صورتحال پر “بہت فکر مند” ہونا چاہیے۔ امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کے اس بیان نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق اہم مذاکرات جمعے کو متوقع ہیں۔

latest urdu news

صدر ٹرمپ نے انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا کہ وہ ہمیشہ ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور ان کی پالیسیوں کا مقصد ایران کے عوام کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا نے ماضی میں ایران کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج مشرق وسطیٰ میں امن کی کوئی صورت باقی نہ رہتی۔ ان کے بقول، ایران کے خلاف کارروائیوں نے خطے کو بڑے تصادم سے بچایا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران بظاہر اس وقت کسی پیش رفت کا خواہشمند دکھائی دیتا ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا آنے والے مذاکرات کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا مذاکرات کو ایک موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے، لیکن ماضی کے تجربات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

صدر ٹرمپ نے ماضی کی ناکام سفارت کاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس سے پہلے بھی بات چیت کے کئی مواقع دیے گئے، مگر وہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔ ان کے مطابق انہی ناکامیوں کے بعد امریکا کو ایران کے خلاف سخت کارروائی پر مجبور ہونا پڑا، جسے انہوں نے “آپریشن مڈنائٹ ہیمر” کا نام دیا۔ صدر ٹرمپ نے واضح انداز میں کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ایران مستقبل میں اس نوعیت کی کسی کارروائی کو دوبارہ برداشت کرنا چاہے گا۔

امریکا ایرانی سپریم لیڈر کو قتل کرے گا: سابق امریکی سفیر

سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات ایک طرف دباؤ کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں تو دوسری جانب یہ ایران کو مذاکرات میں سنجیدگی دکھانے کا پیغام بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا مذاکرات کے لیے تیار ضرور ہے، لیکن کسی بھی ممکنہ معاہدے میں سخت شرائط پر اصرار کرے گا۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام پر اختلافات طویل عرصے سے چلے آ رہے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ ہیں۔ آنے والے مذاکرات کو خطے کے مستقبل کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ان کے نتائج نہ صرف واشنگٹن اور تہران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سیاست اور سلامتی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter