وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے راجن پور میں گرین الیکٹرک بس منصوبے سمیت متعدد ترقیاتی منصوبوں کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے خیبر پختونخوا کی حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ جعلی حکومت وہ ہوتی ہے جو عوام کے حقوق، ترقی، امن اور خوشیاں چھین لے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں 13 سال سے حکومت ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہاں صوبہ زوال کا شکار کیوں ہے، یہ ایک سنجیدہ سوال ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ عوام جب روزگار، سڑکیں اور ٹرانسپورٹ مانگتے ہیں تو انہیں صرف ’’شعور‘‘ دینے کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر شعور پر بیٹھ کر نہ کالج جایا جا سکتا ہے اور نہ ہی روزگار کمایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے عوام گرین بس مانگتے ہیں تو کہا جاتا ہے شعور دیا ہے، تو کیا لوگ شعور پر سفر کریں گے؟ مریم نواز نے بعض سیاسی رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ورکر کا بیٹا جیل میں ہے جبکہ اپنے بیٹوں کو بیرونِ ملک بٹھایا گیا ہے۔
مریم نواز نے راجن پور کے عوام کے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ مسلم لیگ (ن) پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ تمام ترقیاتی کام صرف لاہور میں ہوتے ہیں، مگر آج سے راجن پور میں بھی گرین الیکٹرک بسیں چلیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب بھر میں 1500 مزید گرین بسیں آ رہی ہیں اور ایک سال کے اندر صوبے کے ہر ضلع میں گرین بس سروس شروع کر دی جائے گی۔ راجن پور میں ابتدائی طور پر 15 بسیں فراہم کی گئی ہیں، جبکہ مستقبل میں اس تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
لاہور میں اسپیڈو اور گرین الیکٹرک بسیں ثقافتی رنگوں میں رنگ گئیں
وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ گرین بس سروس اسکول اور کالج کے طلبہ و طالبات کے لیے مفت ہوگی، جبکہ خواتین، بزرگ شہریوں اور معذور افراد بھی بلا معاوضہ اس سہولت سے مستفید ہو سکیں گے۔ خواتین کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے بسوں میں کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ راجن پور میں 12 ارب روپے کی لاگت سے سڑکیں تعمیر کی جا چکی ہیں اور مزید ترقیاتی کام بھی جاری رہیں گے۔
مریم نواز نے اعلان کیا کہ راجن پور میں دل کے مریضوں کے لیے ایک جدید کارڈیالوجی اسپتال قائم کیا جائے گا تاکہ عوام کو علاج کے لیے دوسرے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ راجن پور دہائیوں سے پسماندہ ضرور رہا ہے، مگر اب اس کی پسماندگی ختم ہونے جا رہی ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جب تک راجن پور کے تمام روٹس پر گرین بسیں نہیں چلیں گی، وہ چین سے نہیں بیٹھیں گی۔
تقریب کے اختتام پر وزیرِ اعلیٰ نے زرعی اصلاحات کا بھی اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بے زمین کاشت کاروں کو 3 سے 5 ایکڑ زمین مفت دی جائے گی، جبکہ کسانوں کو زرعی مشینری کے لیے آسان قرضے بھی فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’اپنا کھیت، اپنا روزگار‘‘ منصوبے کے تحت ڈھائی لاکھ ایکڑ زمین دی جا رہی ہے، جس سے دیہی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
