ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کو فراڈ کے مقدمے سے بری کر دیا ہے۔ کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے کی۔
سماعت کے دوران فواد چوہدری اپنے وکلا شمس اقبال ایڈووکیٹ اور قمر عنایت راجہ ایڈووکیٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ شکایت کنندہ ملک محمد ظہیر عدالت میں موجود تھے تاہم ان کے وکیل فرحان منظور پیش نہ ہو سکے۔
فواد چوہدری کے وکلا کی جانب سے بریت کی درخواست پر تفصیلی دلائل دیے گئے۔ شمس اقبال ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ فواد چوہدری کے خلاف الزامات ثابت کرنے کے لیے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں، جبکہ شکایت کنندہ کی جانب سے کیس میں عدم دلچسپی بھی واضح ہے۔
فراڈ کیس میں فواد چوہدری کے وارنٹ گرفتاری جاری، اگلی سماعت 3 فروری
انہوں نے کہا کہ عدالت قانون کی محافظ ہے اور اسے دستیاب ریکارڈ اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرنا چاہیے۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ شواہد کی کمی کے باعث فواد چوہدری کو مقدمے سے بری کیا جائے۔
دلائل سننے کے بعد عدالت نے بریت کی درخواست منظور کرتے ہوئے فواد چوہدری کو فراڈ کیس سے بری کر دیا۔ یہ فیصلہ سابق وفاقی وزیر کے لیے ایک بڑا قانونی ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔
