ضلع کچہری لاہور میں بھاٹی گیٹ کے المناک واقعے میں ماں اور بیٹی کے سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے کے مقدمے میں پولیس کی جانب سے گرفتار پانچ ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس مگھیانہ نے کی۔
سماعت کے دوران پولیس نے ملزمان کا مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا۔ جج شفقت عباس نے تفتیشی افسر سے سخت سوال کیا کہ گزشتہ چار دنوں میں کیا تفتیش کی گئی اور پچھلی سماعت کے آرڈر میں واضح ہدایات کے مطابق کارروائی کیوں نہیں ہوئی۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے تفتیش کی گئی لیکن مکمل معلومات حاصل نہیں ہو سکی اور متعلقہ محکموں کو لیٹر لکھ دیے گئے ہیں۔
جج نے تفتیشی افسر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دو قتل ہوئے ہیں لیکن آپ آرام سے بیٹھے ہیں، لیٹر لکھنا کافی نہیں، خود تفتیش کر کے عدالت کو رپورٹ پیش کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح پولیس کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ بھی کم پڑ سکتا ہے۔
لاہور: بھاٹی گیٹ ماں بیٹی کیس میں ایس پی سٹی اور ایس ایچ او قصور وار
ملزمان کے وکیل نے مزید جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عثمان یاسین نے ایس پی آفس میں خود گرفتاری دی اور ایک کروڑ روپے کا چیک بھی فراہم کیا۔ عدالت نے متوفیہ کے شوہر مرتضیٰ سے بھی سوال کیا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں، جس پر مرتضیٰ نے کہا کہ اگر وہاں روشنی اور مین ہول کور کا مناسب انتظام ہوتا تو یہ حادثہ نہ ہوتا اور میرا گھر تباہ نہ ہوتا۔
عدالت نے سماعت کے بعد مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جس کا اعلان آئندہ سماعت میں متوقع ہے۔ واقعے نے نہ صرف عوامی غصے کو جنم دیا بلکہ شہریوں میں سیوریج لائنز اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے تشویش بھی بڑھا دی ہے۔
