امریکا کا سعودی عرب کو ایف-15 لڑاکا طیاروں کے آلات کی فروخت کی منظوری

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکا نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید وسعت دیتے ہوئے ایف-15 لڑاکا طیاروں کے لیے جدید آلات اور پرزہ جات کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق اس دفاعی معاہدے کی مجموعی مالیت تقریباً 3 ارب ڈالر ہے، جس کا مقصد سعودی فضائیہ کی جنگی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور موجودہ طیارہ بیڑے کو مؤثر طور پر فعال رکھنا ہے۔

latest urdu news

پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو ایف-15 لڑاکا طیاروں کے لیے مختلف تکنیکی آلات، اسپیئر پارٹس، لاجسٹک سپورٹ اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ان اقدامات کا مقصد نہ صرف سعودی فضائیہ کی آپریشنل استعداد میں اضافہ کرنا ہے بلکہ خطے میں دفاعی توازن اور اتحادی ممالک کے درمیان عسکری ہم آہنگی کو بھی فروغ دینا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اس معاہدے کے نتیجے میں سعودی عرب میں محدود تعداد میں امریکی شہری کنٹریکٹرز یا فوجی عملے کی طویل مدتی تعیناتی بھی متوقع ہے۔ یہ عملہ طیاروں کی دیکھ بھال، تکنیکی معاونت اور تربیتی امور میں سعودی حکام کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ پینٹاگون نے واضح کیا ہے کہ یہ تعیناتیاں دفاعی نوعیت کی ہوں گی اور ان کا مقصد سعودی عرب کی خودمختاری یا داخلی امور میں مداخلت نہیں ہوگا۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایف-15 طیارے سعودی فضائیہ کا ایک اہم حصہ ہیں، اور ان کی بروقت مرمت، اپ گریڈیشن اور تکنیکی معاونت خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں نہایت ضروری سمجھی جاتی ہے۔ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان اس قسم کے دفاعی معاہدے طویل عرصے سے جاری ہیں، جو دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل امریکا نے سعودی عرب کو پیٹریاٹ میزائل سسٹمز کی فروخت کی بھی منظوری دی تھی، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 9 ارب ڈالر بتائی گئی تھی۔ ان مسلسل دفاعی معاہدوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اہم اتحادی سعودی عرب کے ساتھ سیکیورٹی اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلے خطے میں جاری کشیدگی، فضائی دفاعی ضروریات اور تزویراتی شراکت داری کے تناظر میں لیے جا رہے ہیں، جن کے اثرات آنے والے برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter