ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی امریکی پرچم والے جہاز کو روکنے کی کارروائی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحری کشتیوں نے امریکی پرچم والے ایک تجارتی جہاز کو روک لیا۔ ایرانی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز بغیر اجازت ایرانی پانیوں کی حدود میں داخل ہوا تھا، جس پر ایرانی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے روکا اور وارننگ جاری کی۔

latest urdu news

ایرانی سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی کشتیوں نے جہاز کو آگاہ کیا کہ وہ ایرانی علاقائی پانیوں میں داخل ہو چکا ہے، جس کے بعد وارننگ ملنے پر امریکی پرچم والا جہاز واپس مڑ گیا اور علاقے سے نکل گیا۔ ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران اپنی سمندری حدود کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر چوکس ہے اور کسی بھی غیر مجاز داخلے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے، تاہم امریکی مؤقف ایرانی دعوے سے مختلف ہے۔ سینٹ کام کے ترجمان کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی کشتیوں نے امریکی پرچم والے جہاز کو روکا اور اس کے عملے کو ہراساں کیا۔ ترجمان نے کہا کہ ایرانی کشتیاں جہاز کے قریب آئیں، ریڈیو کے ذریعے دھمکیاں دیں اور جہاز کو قبضے میں لینے کی بات بھی کی گئی۔

امریکی حکام کے مطابق واقعے کے دوران ایرانی ڈرونز نے بھی امریکی پرچم والے جہاز کے قریب پرواز کی، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔ اسی تناظر میں امریکا نے ایک اور کارروائی کی تفصیلات بھی جاری کی ہیں۔ سینٹ کام کے مطابق بحیرہ عرب میں موجود امریکی ائیرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جانب بڑھنے والے ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا گیا۔

امریکی بیان کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات امریکی ایف-35 سی لڑاکا طیارے نے ایرانی ’شاہد-139‘ ڈرون کو فضا میں نشانہ بنایا۔ امریکا کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون امریکی بحری بیڑے کے لیے ممکنہ خطرہ بن سکتا تھا، اس لیے دفاعی اقدام کے طور پر اسے تباہ کیا گیا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے یہ واقعات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی عالمی منڈیوں اور خطے کی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے یہ واقعات ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خلیجی خطہ بدستور عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور کسی بھی غلط اندازے کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter