ایران-امریکا مذاکرات: معاہدہ نہ ہونے پر ٹرمپ کی تہران کو برے نتائج کی دھمکی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے جوہری مذاکرات کا ایک نیا دور جمعے کو ترکیہ کے شہر استنبول میں شروع ہونے جا رہا ہے۔ یہ مذاکرات ایک ایسے نازک مرحلے پر ہو رہے ہیں جب خطے میں عسکری سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اور سفارتی بیانات میں سختی نمایاں ہو چکی ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اس ملاقات پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس کے نتائج مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

latest urdu news

رائٹرز کے مطابق امریکا کی نمائندگی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کریں گے، جبکہ ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات کی قیادت کریں گے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی معاہدے تک نہ پہنچا گیا تو ایران کو “برے نتائج” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ کے بیان کو سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ مذاکرات اس وقت منعقد ہو رہے ہیں جب امریکا نے ایران کے قریب اپنی بحری طاقت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق بڑے امریکی جنگی جہاز خطے میں تعینات کیے جا رہے ہیں اور ایران کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ عسکری دباؤ کے ساتھ ساتھ سفارتی راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے۔ ٹرمپ کے بقول، اگر بات چیت کے ذریعے کوئی حل نکل آتا ہے تو یہ سب کے لیے بہتر ہوگا، بصورت دیگر صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے مذاکرات کی بحالی کے لیے تین بنیادی مطالبات پیش کیے ہیں۔ ان میں ایران میں یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر ختم کرنا، بیلسٹک میزائل پروگرام پر سخت پابندیاں عائد کرنا اور خطے میں اپنے اتحادی گروہوں کی حمایت ترک کرنا شامل ہے۔ ایران ماضی میں ان مطالبات کو اپنی خودمختاری کے منافی قرار دیتا رہا ہے، تاہم حالیہ بیانات میں ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ اگر اقتصادی پابندیاں اٹھا لی جائیں تو یورینیم افزودگی کے معاملے پر محدود لچک دکھائی جا سکتی ہے۔

امریکا اور ایران کی بڑھتی کشیدگی: خطے میں جنگ کے خطرات پر آیت اللہ خامنہ ای کا انتباہ

ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران کے لیے وقت نہایت اہم ہے اور ملک غیرمنصفانہ اور یکطرفہ پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ پابندیوں نے معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور کسی بھی معاہدے کی کامیابی کا انحصار عملی ریلیف پر ہوگا۔

دوسری جانب ترکی، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر جیسے اہم علاقائی ممالک بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے تحت استنبول میں ہونے والے اجلاس میں شریک ہوں گے۔ ان ممالک کا مقصد فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا اور ممکنہ تصادم کو روکنا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکی بحری موجودگی میں اضافہ، ایران کے جوہری مقامات سے متعلق سامنے آنے والی سیٹلائٹ تصاویر اور اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سوالات نے دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو خطہ ایک نئی اور خطرناک کشیدگی کی طرف بڑھ سکتا ہے، جبکہ کامیابی کی صورت میں عالمی منڈیوں اور سفارتی ماحول میں مثبت تبدیلی متوقع ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter