وفاقی وزیر مملکت مصدق ملک نے بھارت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں ہندوتوا کا نظریہ اس حد تک بے قابو ہو چکا ہے کہ اب کھیلوں جیسے غیر سیاسی اور امن کے علمبردار شعبے کو بھی سیاست کی نذر کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا یہ رویہ نہ صرف کھیلوں کی روح کے منافی ہے بلکہ خطے میں نفرت اور تقسیم کو مزید بڑھا رہا ہے۔
ایک بیان میں مصدق ملک نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پولرائزیشن کی پالیسی کوئی نئی بات نہیں۔ ان کے مطابق بھارت نے پہلے سرحدی تنازعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا، پھر پانی جیسے انسانی اور بنیادی مسئلے کو متنازع بنایا، اور اب کھیلوں کو بھی سیاست زدہ کر کے نفرت کی آگ میں جھونک دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ عمل کھیلوں کے عالمی اصولوں اور اخلاقی اقدار کے سراسر خلاف ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کھیل ہمیشہ سے امن، بھائی چارے اور باہمی احترام کی علامت رہے ہیں۔ جب کھلاڑی میدان میں اترتے ہیں تو رنگ، نسل، مذہب اور زبان کی تفریق ختم ہو جاتی ہے اور صرف صلاحیت، محنت اور اسپورٹس مین اسپرٹ ہی اصل پہچان بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی کھیلوں کا اصل حسن ہے، جسے بھارت دانستہ طور پر پامال کر رہا ہے۔
مصدق ملک نے کرکٹ جیسے مقبول اور عالمی کھیل کو سیاسی رنگ دینے کو بھارت کا انتہائی گھناؤنا اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ برصغیر کے عوام کو جوڑنے کا ذریعہ رہی ہے، مگر بھارت اسے نفرت اور سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کر رہا ہے، جو کھیل اور کھلاڑی دونوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف احتجاج اور میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ بالکل درست اور اصولی ہے۔ ان کے مطابق اگر کھیلوں کو سیاسی ہتھیار بنایا جائے تو خاموش رہنا کھیلوں کی روح سے غداری کے مترادف ہوگا۔
شاہد آفریدی کا بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر ردعمل
واضح رہے کہ حال ہی میں بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے 6 فروری سے بھارت اور سری لنکا میں شروع ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران سکیورٹی خدشات کے باعث اپنی ٹیم بھارت بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ پاکستان نے بنگلا دیش کے اس مؤقف کی بھرپور حمایت کی تھی اور اسے جائز قرار دیا تھا۔
تاہم آئی سی سی نے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے بنگلا دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا اور اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں شامل کر لیا۔ آئی سی سی کے اس فیصلے کو بھارت نواز پالیسی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان نے آئی سی سی کے رویے اور بنگلا دیش کو ٹورنامنٹ سے نکالنے پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔ مصدق ملک کے مطابق پاکستان کا یہ فیصلہ کھیلوں کے وقار، انصاف اور برابری کے اصولوں کے عین مطابق ہے، اور دنیا کو اس سیاسی ناانصافی کا نوٹس لینا چاہیے۔
