قصور کے علاقے مصطفیٰ آباد میں انتظامی غفلت کا ایک اور دلخراش واقعہ پیش آیا، جہاں تین سالہ معصوم بچہ کھلے مین ہول میں گر کر جان کی بازی ہار گیا۔ یہ افسوسناک واقعہ ایک نجی میرج ہال کے قریب پیش آیا، جس نے ایک بار پھر شہری علاقوں میں کھلے مین ہولز اور ناقص حفاظتی اقدامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق ننھا علی کھیلتے ہوئے اچانک کھلے مین ہول میں جا گرا۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور گٹر سے بچے کی لاش نکال لی گئی، تاہم تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ معصوم بچے کی موت کی خبر نے پورے علاقے کو غم اور صدمے میں مبتلا کر دیا، جبکہ اہلِ علاقہ میں شدید غصہ بھی پایا جا رہا ہے۔
واقعے کی سنگینی کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر قصور محمد آصف رضا اور ڈی پی او قصور محمد عیسیٰ خان فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے۔ دونوں افسران نے موقع کا معائنہ کیا، متعلقہ عملے سے تفصیلات لیں اور واقعے کے محرکات کا جائزہ لیا۔ شہریوں نے انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اگر مین ہول کو بروقت بند کیا جاتا تو ایک معصوم جان بچ سکتی تھی۔
پولیس کے مطابق ڈی پی او کی ہدایت پر واقعے کا مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 322 کے تحت درج کر لیا گیا ہے، جو غفلت کے نتیجے میں موت کے زمرے میں آتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ میرج ہال انتظامیہ اور دیگر ذمہ دار عناصر کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ غفلت کے مرتکب افراد کی نشاندہی کے بعد گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کے احکامات، ضلع جہلم میں کھلے مین ہولز کو ڈھانپنے کا کام تیزی سے جاری
متوفی بچے کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آج ان کے بیٹے علی محرم کی سالگرہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جس دن گھر میں خوشی ہونی تھی، اسی دن ان کا آنگن اجڑ گیا۔ والد کے جذباتی بیان نے ہر آنکھ کو نم کر دیا اور علاقے میں سوگ کی کیفیت مزید گہری ہو گئی۔
ڈی پی او قصور محمد عیسیٰ خان نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اس واقعے میں ملوث کسی بھی فرد یا ادارے کو معاف نہیں کیا جائے گا اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کھلے مین ہولز جیسے خطرناک مسائل پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ شہری علاقوں میں بنیادی سہولیات کی عدم نگرانی اور غفلت کس طرح قیمتی انسانی جانیں نگل رہی ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صرف مقدمات درج کرنے کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ کسی اور گھر کا چراغ اس طرح نہ بجھے۔
