جہلم میں پتنگ بازی کی روک تھام کے لیے پولیس کی جانب سے جاری خصوصی مہم کے دوران مختلف علاقوں میں مؤثر کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔ اس مہم کا مقصد شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا اور اس خطرناک رجحان کا مکمل خاتمہ کرنا ہے، جس کے باعث ماضی میں کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
چھتوں پر سرچنگ، ملزمان گرفتار
پولیس حکام کے مطابق جہلم پولیس نے مختلف علاقوں میں گھروں کی چھتوں پر سرچنگ کی، جس کے دوران پتنگیں اور خونی ڈور قبضے میں رکھنے والے دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ کارروائی تھانہ سوہاوہ پولیس نے کی، جہاں ملزمان کے قبضے سے بھاری مقدار میں پتنگیں برآمد ہوئیں۔ پولیس کے مطابق ملزمان غیر قانونی طور پر پتنگیں اور ڈوریں ذخیرہ کرکے جرم کا ارتکاب کر رہے تھے۔
مقدمات درج، تحقیقات کا آغاز
پولیس نے گرفتار ملزمان کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کر لیے ہیں جبکہ برآمد شدہ پتنگیں اور خونی ڈور قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید تحقیقات بھی جاری ہیں تاکہ اس غیر قانونی سرگرمی سے جڑے دیگر عناصر تک بھی پہنچا جا سکے۔
نیا قانون اور سخت سزائیں
پولیس کے مطابق نئے قانون کے تحت غیر قانونی طور پر پتنگیں تیار کرنے، ذخیرہ کرنے، سپلائی کرنے یا اپنے قبضے میں رکھنے پر بھاری جرمانے کے ساتھ ساتھ پانچ سال تک قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ یہ قانون اس خطرناک کھیل کی روک تھام کے لیے متعارف کرایا گیا ہے، کیونکہ پتنگ بازی کے دوران استعمال ہونے والی خونی ڈور جان لیوا ثابت ہو چکی ہے۔
ڈی پی او جہلم کا مؤقف
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم طارق عزیز سندھو نے اس موقع پر واضح کیا کہ پتنگ بازی ایک خطرناک اور خونی کھیل ہے، جس سے انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
عوام کے تحفظ کے لیے مہم جاری
ڈی پی او جہلم کے مطابق عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پتنگ بازی کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جہلم پولیس اس ناسور کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔
