کراچی: گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے بھارت کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان کو چھیڑنے یا عدم استحکام پیدا کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے دفاع اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
بھارت کو واضح انتباہ
گورنر سندھ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر بھارتی ایجنٹس کی جانب سے کسی بھی پاکستانی شہری کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تو پاکستان خاموش نہیں رہے گا۔ ان کے مطابق ایسی کسی بھی کارروائی کا جواب سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کی صلاحیت اور عزم رکھتا ہے۔
نریندر مودی پر تنقید
کامران خان ٹیسوری نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو انتہا پسند ہندو نظریات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ بھارت کی موجودہ قیادت خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نفرت اور جارحانہ پالیسیوں کے نتیجے میں نہ صرف خطے بلکہ خود بھارت کے لیے بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
بلوچستان کے حوالے سے مؤقف
گورنر سندھ نے بلوچستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہاں کسی پاکستانی بھائی، بہن یا بچے کا خون بہایا گیا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق بلوچستان پاکستان کا اہم اور حساس خطہ ہے اور وہاں امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
افواجِ پاکستان سے یکجہتی
کامران ٹیسوری نے اس موقع پر افواجِ پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے غیور نوجوان اور عوام افواجِ پاکستان کا ساتھ دیتے ہوئے کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف متحد رہیں گے۔
قومی سلامتی اور اتحاد پر زور
گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اور علاقائی اختلافات سے بالاتر ہو کر تمام پاکستانیوں کو ملک کے دفاع اور استحکام کے لیے ایک پلیٹ فارم پر آنا چاہیے۔
مجموعی طور پر گورنر سندھ کے بیان کو ایک سخت سفارتی اور سیاسی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، عوام کے تحفظ اور علاقائی سلامتی کے معاملے پر کسی قسم کی مداخلت یا جارحیت کو قبول نہیں کرے گا۔
