ایرانی پارلیمنٹ کا یورپی افواج کو دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایرانی پارلیمنٹ نے ایک اہم اور غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے یورپی یونین کے رکن ممالک کی افواج کو باضابطہ طور پر ’’دہشت گرد گروہ‘‘ قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور یورپی یونین کے تعلقات پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام خطے میں سفارتی اور عسکری سطح پر نئی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔

latest urdu news

فیصلے کا پس منظر

غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کا یہ اقدام یورپی یونین کے اس فیصلے کا ردعمل ہے جس میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (Islamic Revolutionary Guard Corps) کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا۔ ایران نے اس اقدام کو اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ پاسدارانِ انقلاب ایران کی ایک طاقتور فوجی اور سکیورٹی فورس ہے جو نہ صرف دفاعی امور بلکہ علاقائی پالیسی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس ادارے کو اس سے قبل 2019 میں امریکا بھی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے، جس کے بعد ایران نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت جوابی اقدامات کی گنجائش رکھی گئی۔

پارلیمنٹ اجلاس کی تفصیلات

ایرانی پارلیمنٹ کے حالیہ اجلاس کے دوران ارکان نے پاسدارانِ انقلاب سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر سبز فوجی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ اجلاس کے دوران ’’امریکا مردہ باد‘‘، ’’اسرائیل مردہ باد‘‘ اور ’’یورپ شرم کرو‘‘ جیسے نعرے بھی لگائے گئے۔

اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے منظور شدہ قانون کے آرٹیکل 7 کے تحت، یورپی یونین کے ممالک کی افواج کو دہشت گرد گروہ تصور کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ اقدام یورپی یونین کے فیصلے کے جواب میں ایک قانونی اور سیاسی ردعمل ہے۔

امریکا اور ایران کی بڑھتی کشیدگی: خطے میں جنگ کے خطرات پر آیت اللہ خامنہ ای کا انتباہ

ممکنہ اثرات اور آئندہ اقدامات

خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق فی الحال یہ واضح نہیں کہ اس فیصلے کے فوری عملی اثرات کیا ہوں گے۔ تاہم محمد باقر قالیباف نے بتایا کہ پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی یورپی ممالک کے فوجی اتاشیوں کو ملک بدر کرنے کے امکان پر غور کرے گی اور اس حوالے سے وزارتِ خارجہ سے مشاورت کی جائے گی۔

تاریخی موقع

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ اجلاس ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کی جلاوطنی سے واپسی کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوا، جس نے اس فیصلے کو مزید علامتی اہمیت دے دی ہے۔

مجموعی طور پر، یہ پیش رفت ایران اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات میں ایک نئے اور حساس مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں عالمی سفارت کاری پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter