لاہور: پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں قومی ٹیم نے شاندار اور جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاور پلے میں ہی حریف بولرز کو دباؤ میں لے لیا۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جا رہے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، جو ابتدا ہی سے درست ثابت ہوتا دکھائی دیا۔
اننگز کے آغاز سے ہی پاکستانی بلے بازوں نے تیز رفتار کھیل اپنایا اور پہلے اوور سے ہی آسٹریلوی بولرز پر حاوی نظر آئے۔ اگرچہ دوسرے اوور میں صاحبزادہ فرحان جلد آؤٹ ہو گئے، تاہم اس کے بعد کپتان سلمان علی آغا اور صائم ایوب نے جارحانہ انداز میں بیٹنگ جاری رکھی اور رنز کی رفتار کو تیز رکھا۔
صائم ایوب نے مختصر مگر شاندار اننگز کھیلی اور چھٹے اوور میں 11 گیندوں پر 23 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ان کی اننگز میں دلکش اسٹروکس شامل تھے، جنہوں نے شائقین کو خوب محظوظ کیا۔ پاور پلے کے دوران پاکستان نے 3 چھکوں اور 10 چوکوں کی مدد سے صرف 6 اوورز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 72 رنز اسکور کیے۔
اس کے بعد بابر اعظم بھی زیادہ دیر کریز پر نہ ٹھہر سکے اور 2 رنز بنا کر ایڈم زیمپا کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ تاہم کپتان سلمان علی آغا نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور جارحانہ بیٹنگ کا تسلسل برقرار رکھا۔ انہوں نے اعتماد کے ساتھ اسٹروکس کھیلتے ہوئے صرف 25 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی۔
ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آغاز: پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا انتخاب کر لیا
یہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کسی پاکستانی کپتان کی جانب سے دوسری تیز ترین نصف سنچری ہے، جبکہ اس فہرست میں پہلی پوزیشن محمد حفیظ کی 23 گیندوں پر بنائی گئی نصف سنچری کو حاصل ہے۔
میچ کے ابتدائی 10 اوورز کے اختتام پر پاکستان نے 3 وکٹوں کے نقصان پر 96 رنز بنا لیے تھے، جس سے ایک بڑے اسکور کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ قومی ٹیم کی اس جارحانہ بیٹنگ نے آسٹریلوی بولنگ اٹیک کو سخت آزمائش میں ڈال دیا ہے اور شائقین ایک سنسنی خیز مقابلے کی توقع کر رہے ہیں۔
