اسپین کی پولیس نے حماس کو مالی معاونت فراہم کرنے کے شبہے میں بارسلونا کے قریب ایک 38 سالہ چینی شہری کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اس نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے کالعدم فلسطینی گروپ حماس کو بھاری رقوم منتقل کیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار شخص بارسلونا کے نواحی علاقے میں ایک حجام کی دکان کا مالک ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے مختلف ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے تقریباً 6 لاکھ یورو مالیت کی کرپٹو کرنسی حماس سے منسلک اکاؤنٹس کو منتقل کی۔ یہ لین دین ایسے والٹس کے ذریعے کیا گیا جو مبینہ طور پر حماس کے مالی نیٹ ورک سے وابستہ تھے۔
پولیس نے ابتدائی تحقیقات میں کم از کم 31 الگ الگ کرپٹو ٹرانزیکشنز کی نشاندہی کی ہے، جن کے ذریعے مشتبہ ڈیجیٹل اکاؤنٹس سے رقم براہِ راست حماس سے منسلک ایڈریسز پر منتقل کی گئی۔ تفتیشی اداروں کے مطابق یہ ترسیلات ایک منظم انداز میں کی گئیں، جس سے ایک منظم مالی معاونتی نظام کے شواہد ملتے ہیں۔
گرفتاری کے بعد پولیس نے ملزم کی حجام کی دکان اور رہائش گاہ پر چھاپے مارے، جہاں سے کرپٹو اثاثے، بڑی مقدار میں نقد رقم، زیورات، تقریباً 9 ہزار سگار، کمپیوٹرز اور متعدد موبائل فونز برآمد کیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ سامان مالی سرگرمیوں اور رابطوں کی مزید تفتیش میں مدد فراہم کرے گا۔
اسپین کی پولیس کے مطابق ملزم کے چند بینک اکاؤنٹس اور دیگر اثاثے بھی فوری طور پر فریز کر دیے گئے ہیں تاکہ ممکنہ طور پر غیر قانونی رقوم کی منتقلی کو روکا جا سکے۔ اس کیس کو قومی عدالت میں بھی دائر کر دیا گیا ہے، جہاں دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے ذریعے دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت عالمی سطح پر ایک بڑھتا ہوا چیلنج بنتی جا رہی ہے، جس کے تدارک کے لیے بین الاقوامی تعاون اور سخت نگرانی ناگزیر ہے۔
