لاہور سانحہ: معاوضہ دکھ کا مداوا نہیں کر سکتا، مرحومہ کے شوہر کا درد بھرا مؤقف

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور کے تاریخی علاقے بھاٹی گیٹ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ نے حکومتی امداد اور ایک کروڑ روپے کے اعلان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مالی مدد ان کے غم کا ازالہ نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیسوں سے ان کے بچوں کو ماں واپس نہیں مل سکتی، اس لیے وہ محض انصاف اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں۔

latest urdu news

غلام مرتضیٰ نے شورکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد انہیں شدید مشکلات اور بے حسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق جب ان کی اہلیہ اور بیٹی سیوریج لائن میں گریں تو ریسکیو 1122 نے اس اطلاع کو غلط اور من گھڑت قرار دے دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے بھی شروع میں اس واقعے کو سنجیدگی سے نہیں لیا بلکہ مختلف تھانوں میں انہیں مشتبہ بنا کر پیش کیا گیا۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ بھاٹی گیٹ تھانے کے ایس ایچ او زین نے انہیں حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا اور دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اپنی بیوی اور بیٹی کو خود غائب کرنے کا اعتراف کریں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی کہ وہ سیف سٹی کیمروں میں کہیں نظر نہیں آئے، حالانکہ وہ بار بار متعلقہ اداروں سے مدد کی اپیل کرتے رہے۔

لاہور میں سیوریج لائن میں ماں بیٹی کے گرنے کا معاملہ: ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری

متاثرہ شخص کے مطابق جب ڈی آئی جی کو اصل حقائق کا علم ہوا تو انہوں نے ماتحت افسران کی سرزنش کی، تاہم اس کے بعد بھی انہیں دھمکیاں دی جاتی رہیں۔ غلام مرتضیٰ نے کہا کہ اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو شاید قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے فوری نوٹس اور اقدامات پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذاتی طور پر کسی مالی امداد کے خواہاں نہیں، بلکہ ان کی خواہش ہے کہ غفلت اور نااہلی کے ذمہ دار عناصر کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی اور خاندان کو ایسا کرب نہ سہنا پڑے۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ داتا دربار کے قریب پیش آیا تھا، جہاں ایک خاتون اور اس کی کمسن بچی کھلے سیوریج میں گر گئیں۔ ابتدا میں پولیس اور متعلقہ ادارے واقعے کی تردید کرتے رہے، تاہم تقریباً دس گھنٹے بعد دونوں کی لاشیں تین کلومیٹر دور سے برآمد ہوئیں۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعدد محکموں کو ذمہ دار ٹھہرایا، جس کے بعد مقدمے میں نامزد تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter