بدنامِ زمانہ امریکی شہری اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے جڑے اسکینڈل میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے، جب امریکی محکمۂ انصاف نے اس کیس سے متعلق مزید انتہائی چونکا دینے والی دستاویزات عوام کے لیے جاری کر دی ہیں۔ تازہ ریلیز میں 35 لاکھ سے زائد صفحات شامل ہیں، جنہیں حالیہ برسوں کی سب سے بڑی عدالتی اور تفتیشی دستاویزات کی اشاعت قرار دیا جا رہا ہے۔
محکمۂ انصاف کے مطابق جاری کیے گئے ریکارڈ میں دو ہزار سے زائد ویڈیوز اور تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار تصاویر شامل ہیں، جو ایپسٹین کے نیٹ ورک، اس کی سرگرمیوں اور مبینہ طور پر بااثر شخصیات سے تعلقات کی عکاسی کرتی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کی شناخت اور نجی معلومات کے تحفظ کے لیے متعدد حصوں کو ایڈیٹ کیا گیا ہے، تاہم اہم سیاسی شخصیات، کاروباری افراد اور دیگر بااثر ناموں کو چھپایا نہیں گیا۔
ذرائع کے مطابق ان دستاویزات میں ایپسٹین کے رابطوں، سفری ریکارڈ، مالی لین دین، ای میلز اور ویڈیوز کا تفصیلی ذکر موجود ہے، جس سے اس کے عالمی سطح پر پھیلے ہوئے اثر و رسوخ اور تعلقات کی جھلک ملتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مواد مستقبل میں مزید قانونی کارروائیوں اور تحقیقات کی بنیاد بن سکتا ہے۔
ٹرمپ اور ایلون مسک کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین پر کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال، انسانی اسمگلنگ اور طاقتور عالمی اشرافیہ کو بلیک میل کرنے جیسے سنگین الزامات عائد تھے۔ ان الزامات کے باعث ایپسٹین کا نام دنیا کی سیاسی، سماجی اور کاروباری اشرافیہ کے ساتھ جوڑا جاتا رہا، جس نے اس کیس کو غیر معمولی عالمی توجہ کا مرکز بنائے رکھا۔
ایپسٹین کو 2019 میں نیویارک کی ایک امریکی جیل میں مردہ پایا گیا تھا۔ سرکاری طور پر اس کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا، تاہم سیکیورٹی کیمروں کی خرابی، جیل انتظامیہ کی غفلت اور دیگر شواہد نے اس واقعے کو ایک پراسرار معمہ بنا دیا، جس پر آج تک سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
تازہ دستاویزات کی اشاعت کے بعد ایک بار پھر مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ ایپسٹین کے نیٹ ورک میں شامل تمام افراد کو بے نقاب کیا جائے اور متاثرین کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے۔ مبصرین کے مطابق یہ انکشافات نہ صرف امریکی نظامِ انصاف بلکہ عالمی طاقتور حلقوں کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتے ہیں۔
