وسطی افریقہ کے ملک جمہوریہ کانگو ایک بڑے انسانی المیے سے دوچار ہو گیا ہے، جہاں مشرقی علاقے میں واقع کالٹن دھات کی ایک کان بیٹھنے کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ واقعہ بدھ کے روز پیش آیا، تاہم کئی دن گزرنے کے باوجود ہلاکتوں کی حتمی تعداد کا تعین نہ ہو سکا، جس کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اموات کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حادثہ مشرقی کانگو کے علاقے ربایا میں پیش آیا، جو ایک باغی گروہ کے زیرِ اثر صوبہ بتایا جاتا ہے۔ حادثے کے وقت کان کے اندر بڑی تعداد میں کان کن موجود تھے جو کالٹن دھات نکالنے میں مصروف تھے کہ اچانک لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کان بیٹھ گئی اور درجنوں افراد ملبے تلے دب گئے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جو اس کان میں یا اس کے آس پاس کام کر رہے تھے۔ حادثے میں کم از کم 20 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جنہیں قریبی طبی مراکز منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم محدود سہولیات کے باعث زخمیوں کو مکمل اور بروقت علاج فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقے کے مقامی حکام کے مطابق حالیہ بارشوں کے باعث زمین غیر معمولی حد تک نرم ہو چکی تھی، جس کے نتیجے میں کان کا ڈھانچہ کمزور ہو گیا اور اچانک بیٹھ گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کان کنی کے دوران حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر تھے، جس نے جانی نقصان کو مزید بڑھا دیا۔
ریسکیو کارروائیاں مقامی افراد، رضاکاروں اور محدود سرکاری وسائل کی مدد سے جاری ہیں، تاہم دشوار گزار علاقے، خراب سڑکوں اور سیکیورٹی خدشات کے باعث امدادی کاموں میں شدید رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔ کئی افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ اب بھی موجود ہے۔
واضح رہے کہ ربایا کا علاقہ دنیا بھر میں کالٹن کی پیداوار کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ عالمی سطح پر استعمال ہونے والے کالٹن کا تقریباً 15 فیصد اسی خطے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اس معدنیات سے ٹینٹالم دھات تیار کی جاتی ہے جو موبائل فونز، کمپیوٹرز، الیکٹرانکس، ایرواسپیس انڈسٹری اور ٹربائنز کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کانگو میں غیر محفوظ اور غیر قانونی کان کنی کے باعث ایسے حادثات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت اور عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ کان کنوں کے تحفظ، بہتر نگرانی اور حفاظتی قوانین پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔
