قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود اچکزئی نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی صحت کے حوالے سے جو باتیں پھیلائی جا رہی ہیں وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ذمہ داری اور دعوے کے ساتھ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ عمران خان کی صحت اتنی خراب نہیں جتنی اسے جان بوجھ کر ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی کے مشترکہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ جب اپوزیشن جماعتوں نے احتجاجی تحریک کا اعلان کیا تو اسی دوران عمران خان کی مبینہ بیماری کا بیانیہ سامنے آنا شروع ہو گیا۔ ان کے مطابق یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ عمران خان شدید علیل ہیں، جس کا مقصد کارکنوں اور عوام کی توجہ اصل سیاسی جدوجہد سے ہٹانا ہے۔
محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اور اتحادیوں کی کسی ادارے یا فرد سے ذاتی دشمنی نہیں، لیکن وہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں اصل مسئلہ آئین، جمہوریت اور عوام کے حقِ رائے دہی کا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے اپوزیشن کو اس کے بنیادی مقصد سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کا بنیادی مطالبہ آزاد اور خودمختار الیکشن کمیشن اور شفاف، غیر جانبدار عام انتخابات ہیں۔ ان کے مطابق جب تک آئین کی بالادستی قائم نہیں ہوگی اور ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام نہیں کریں گے، اس وقت تک ملک کو درپیش سیاسی اور معاشی بحران ختم نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اس وقت ایک نئی سمت اور تشکیلِ نو کی ضرورت ہے، جو صرف آئین پر مکمل عملدرآمد سے ہی ممکن ہے۔ محمود اچکزئی نے زور دیا کہ تمام ریاستی ادارے آئینی دائرے میں رہیں اور عوام کو یہ حق دیا جائے کہ وہ آزادانہ طور پر اپنے نمائندے منتخب کر سکیں۔
عمران خان کی آنکھ کی سرجری خفیہ طور پر پمز میں کی گئی:سلمان اکرم راجا
عمران خان کی صحت سے متعلق بات کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ غیر ضروری افواہیں پھیلا کر نہ صرف کارکنوں کو کنفیوژن میں ڈالا جا رہا ہے بلکہ ایک سنجیدہ سیاسی تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اس طرح کے پروپیگنڈے سے مرعوب نہیں ہوں گی اور اپنی آئینی جدوجہد جاری رکھیں گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق محمود اچکزئی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت ایک بار پھر بڑھ رہا ہے اور اپوزیشن جماعتیں انتخابی اصلاحات اور جمہوری عمل کی بحالی کے لیے متحرک دکھائی دے رہی ہیں۔
