خیبرپختونخوا میں نیپا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ہنگامی اقداما،

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

خیبرپختونخوا میں خطرناک اور تیزی سے پھیلنے والے نیپا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے خدشے کے باعث محکمہ صحت نے صوبے بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

latest urdu news

اس ضمن میں تمام اضلاع کے سرکاری و نجی مراکزِ صحت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں اور مشتبہ مریضوں کی فوری نشاندہی کو یقینی بنایا جائے۔

پشاور سے جاری کردہ محکمہ صحت کے بیان کے مطابق نیپا وائرس ایک جان لیوا بیماری ہے جو انسانوں میں تیزی سے منتقل ہو سکتی ہے، اس لیے اس کی بروقت تشخیص اور فوری احتیاطی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ محکمہ صحت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی غفلت بڑے پیمانے پر صحت کے بحران کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے تمام طبی اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ نیپا وائرس کی جلد شناخت کے لیے صوبے کے تمام ایئرپورٹس پر مسافروں کی اسکریننگ کے مؤثر انتظامات کیے جائیں گے۔ بیرونِ ملک سے آنے والے مسافروں کی خصوصی نگرانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی مشتبہ فرد کی فوری جانچ اور آئسولیشن ممکن ہو سکے۔ اس اقدام کا مقصد وائرس کے ممکنہ بیرونی پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

نیپاہ وائرس کو کیٹیگری 5 کا سنگین خطرہ قرار دے دیا گیا

محکمہ صحت کے مطابق نیپا وائرس سے متاثرہ یا مشتبہ مریضوں کے لیے آئسولیشن وارڈز قائم کیے جائیں گے جبکہ ضلعی اور تحصیل سطح کے اسپتالوں کو مکمل تیاری رکھنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ اسپتال انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ حفاظتی سازوسامان، تربیت یافتہ عملہ اور ضروری طبی سہولیات ہر وقت دستیاب رکھیں۔

ایڈوائزری میں مزید بتایا گیا ہے کہ وائرس کی تشخیص کے لیے مریضوں کے نمونوں کو بروقت ٹیسٹنگ لیبارٹریز تک منتقل کرنے کے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ تشخیص میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔ نیپا وائرس کی ابتدائی علامات میں بخار، شدید سر درد، متلی، بے ہوشی اور اعصابی پیچیدگیاں شامل ہیں، جو بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہیں۔

محکمہ صحت نے واضح کیا ہے کہ فی الحال نیپا وائرس کا کوئی باقاعدہ علاج یا ویکسین دستیاب نہیں، اس لیے احتیاط ہی واحد مؤثر ذریعہ ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری میل جول سے گریز کریں، صفائی کا خاص خیال رکھیں اور کسی بھی مشتبہ علامت کی صورت میں فوری طور پر قریبی مرکزِ صحت سے رجوع کریں۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ عوام کے تعاون سے ہی اس ممکنہ خطرے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter